انسانی ہڈیاں کنکریٹ سے بھی زیادہ سخت، جسم روشنی بناتا ہے، چونکا دینے والے حقائق سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

انسان
(فوٹو: پکسابے)

انسانی جسم جسم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ ایسا حیرت کدہ ہے جو اکیسویں صدی میں بھی سائنسدانوں کو حیران کررہا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انسانی ہڈیاں کنکریٹ سے بھی زیادہ سخت، جسم کے بالوں میں سونے اور چاندی سمیت 14 دھاتیں پائی جاتی ہیں جبکہ انسانی جسم روشنی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

آج ہم اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اسی عجوبے کے 10 حیران کردینے والے حقائق پر نظر ڈالیں گے جن کا بے شمار انسانوں کو سائنس کی تیزرفتار ترقی اور معلومات کی بے بہا ترسیل کے باوجود علم نہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ انسان معلومات کے اس بہاؤ میں صرف اپنی مرضی کی معلومات پر توجہ دیتا ہے۔ انسان کے متعلق 10حیرت انگیز سائنسی حقائق مندرجہ ذیل ہیں۔

پہلی حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ نیند کے دوران بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔ یہ یادداشت کو ترتیب دیتا ہے، زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے اور خوابوں کی شکل میں سرگرم رہتا ہے۔ حتیٰ کہ گہری نیند میں بھی دماغ کے کچھ حصے مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود بھی جب انسان سو کر اٹھتا ہے تو اس کی تھکن دور ہوچکی ہوتی ہے اور وہ کام کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسان خاموشی کو بھی سن سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دماغ “خاموشی” کو بھی ایک الگ صوتی تجربے کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ جب مکمل خاموشی ہو تو دماغ اپنی اندرونی سرگرمیوں کو زیادہ واضح طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ خاموش ماحول میں زیادہ بے چینی یا توجہ محسوس کرتے ہیں۔

تیسری حقیقت یہ ہے کہ انسانی معدے کا تیزاب انتہائی طاقتور ہوتا ہے۔ دراصل انسانی معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ پایا جاتا ہے جو انتہائی طاقتور ہوتا ہے اور بلیڈ کو بھی تحلیل کرسکتا ہے۔ یہ کھانے کو تحلیل کرنے اور جراثیم ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ نظریاتی طور پر یہ تیزاب دھاتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن معدہ خود کو حفاظتی تہہ کے ذریعے محفوظ رکھتا ہے۔

چوتھی حقیقت یہ ہے کہ انسان خوف کو سونگھ سکتا ہے۔ دراصل انسانی جسم میں کیمیائی سگنلز (فیرومونز جیسے مادے) موجود ہوتے ہیں جو جذبات کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص خوف میں ہوتا ہے تو اس کے پسینے کی کیمیائی ساخت بدل جاتی ہے۔ دوسرے لوگ لاشعوری طور پر اس تبدیلی کو محسوس کر لیتے ہیں۔

پانچویں حقیقت یہ ہے کہ انسانی ہڈیاں کنکریٹ سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ دراصل وزن کے لحاظ سے انسانی ہڈی بہت زیادہ دباؤ برداشت کر سکتی ہے۔ فی مربع سینٹی میٹر کے حساب سے یہ کنکریٹ سے بھی زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم معمولی نوعیت کے حادثات برداشت کرسکتا ہے تاہم سنگین حادثات کے نتیجے میں ہڈیوں کا ٹوٹنا ایک عام مشاہدہ ہے۔

چھٹی حقیقت یہ ہے کہ انسان لمبے فاصلے دوڑنے میں سب جانوروں سے بہتر ہے۔ انسانی جسم رفتار میں شاید سب سے تیز نہ ہو، لیکن انسانی اسٹیمنا یعنی دیر تک دوڑتے رہنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔ پسینہ بہانے اور جسمانی حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت انسان کو لمبے فاصلے تک مسلسل دوڑنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی صلاحیت ابتدائی انسانوں کو شکار میں مدد دیتی تھی۔

ساتویں حقیقت یہ ہے کہ انسانی جسم ہر 7 سے 10 سال میں تقریباً مکمل بدل جاتا ہے۔ جسم کے زیادہ تر خلیے وقت کے ساتھ نئے بن جاتے ہیں۔ جلد، خون اور آنتوں کے خلیے تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث کہا جاتا ہے کہ چند سال بعد انسان کا جسم تقریباً نیا ہو چکا ہوتا ہے، اگرچہ دماغی خلیات کو اس سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے۔

آٹھویں حقیقت یہ ہے کہ ہر نارمل انسان کی ناک کم و بیش 50,000 خوشبوئیں پہچان سکتی ہے۔ دراصل انسانی ناک انتہائی حساس ہوتی ہے اور ہزاروں مختلف خوشبوئیں محسوس کر سکتی ہے۔ یہ صلاحیت ماحول کو سمجھنے اور خطرات سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم ہر شخص میں یہ صلاحیت مختلف ہوسکتی ہے۔

نویں حقیقت یہ ہے کہ انسانی جسم کو ایک طرح کا بجلی گھر بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ انسانی دماغ مسلسل برقی سگنلز پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ سگنلز نیورونز کے درمیان رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ایک انسانی دماغ تقریباً 20 واٹ بجلی کے برابر توانائی استعمال کرتا ہے، جو ایک چھوٹے بلب کو جلانے کے لیے کافی ہے۔

دسویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ انسانی جسم روشنی بھی پیدا کرسکتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی جسم انتہائی کمزور روشنی خارج کرتا ہے۔ یہ روشنی اتنی کم ہوتی ہے کہ انسانی آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔ یہ خلیاتی میٹابولزم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

Related Posts