اسکول ٹیچر کے قتل سے لیکر انجینئر علی پر مرزا حملے تک! جانیے ملزم بلال خان کی پراسرار داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

جہلم میں انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملے کی کوشش میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مبینہ حملہ آور کی شناخت اور اس کے پس منظر سے متعلق مختلف پہلو سامنے آ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص میانوالی کا رہائشی تھا اور اس کی شناخت بلال خان گاڈیخیل کے نام سے کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم کا ماضی بھی ایک پرتشدد واقعے سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے توہینِ صحابہ کے مبینہ الزام کے تحت ٹیچر سمیر نامی ایک شخص کو قتل کیا تھا جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی بعد ازاں وہ عدالت سے ضمانت پر رہا ہوا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ رہائی کے کچھ ہی عرصے بعد یہ نیا واقعہ پیش آیا جس نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے اس کے ممکنہ روابط اور محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ دوسرے مبینہ حملہ آور کی تلاش بھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پنجاب کے شہر جہلم میں معروف اسلامی اسکالر اور ماہرِ تعلیم انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر مسلح حملے کی کوشش کی گئی جسے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

پولیس حکام کے مطابق صبح تقریباً 10:45 بجے دو مسلح افراد نے اکیڈمی کے احاطے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جن میں سے ایک نے گرین بیلٹ پر پوزیشن سنبھال کر فائرنگ شروع کر دی۔

حملہ آور نے مزاحمت کرتے ہوئے پولیس پارٹی پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

Related Posts