چین کی حکومت نے ملک کی سولر انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت (کیپیسٹی) کو قابو میں لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ اقدام اس شعبے میں طویل عرصے سے جاری زائد پیداوار (اوور پروڈکشن) اور شدید مقابلے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی حکام نے سولر سیکٹر میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے اور پیداواری صلاحیت کو منظم کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات پر زور دیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ غیر متوازن پیداوار کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتوں کا بحران پیدا ہو رہا ہے اور متعدد کمپنیوں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MIIT) اور نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مختلف محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، پالیسیوں کے یکساں اور موثر نفاذ اور صنعت کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
بعد ازاں پیر کے روز جاری کیے گئے سرکاری بیان میں ان ہدایات کی توثیق کی گئی جس میں واضح کیا گیا کہ سولر انڈسٹری میں کیپیسٹی کنٹرول کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔
چین کی سولر انڈسٹری گزشتہ کئی برسوں سے شدید اوور کیپیسٹی اور قیمتوں کی سخت جنگ کا شکار رہی ہے جس کے باعث کئی کمپنیاں نقصان میں جا چکی ہیں۔ اب حکومت اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اور منظم پالیسی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ پیشرفت 20 اپریل 2026 کی رپورٹ کا حصہ ہے جس میں چین کی صنعتی پالیسی میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








