سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ایکس پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جا رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کہتے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور تیل کی قلت کے باعث اپنی اہلیہ کے ساتھ رات گئے ڈرائیوز نہیں کر رہے تاہم تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور ویڈیو پرانی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل کلپ دراصل اکتوبر 2020 کا ہے اور اس میں کم جونگ اُن نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس کا تیل کی کمی یا ذاتی زندگی میں تبدیلی سے تعلق ہو۔سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو غلط سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا گیا اور اسے حالیہ عالمی سیاسی صورتحال سے جوڑ دیا گیا۔
دعویٰ اور اس کی اصل حقیقت
وائرل ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ کم جونگ اُن نے مبینہ طور پر کہا کہ ملک میں تیل کی کمی کے باعث وہ رات کے وقت اپنی گاڑی کی لانگ ڈرائیو سے گریز کر رہے ہیں لیکن فیکٹ چیک سے ثابت ہوا کہ یہ بیان مکمل طور پر فرضی ہے۔
تحقیقات کے مطابق ویڈیو کی اصل شناخت کے لیے ریورس امیج سرچ اور کی ورڈ سرچ کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ یہ کلپ 13 اکتوبر 2020 کو بی بی سی کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا گیا تھا۔ اصل ویڈیو میں کم جونگ اُن ایک جذباتی خطاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اس میں تیل کی قلت یا ذاتی معمولات میں تبدیلی کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
ویڈیو کا اصل پس منظر
اصل خطاب شمالی کوریا میں ورکرز پارٹی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا جہاں کم جونگ اُن ملک کے فوجیوں اور عوام کی مشکلات پر بات کر رہے تھے۔ اس دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ملک کو درپیش چیلنجز، کورونا وبا اور قدرتی آفات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی حکومت کی ناکامیوں پر معذرت بھی کی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خطاب میں ان کا جذباتی انداز کسی ذاتی یا تیل کی کمی سے متعلق بیان نہیں تھا بلکہ ملکی بحران اور عوامی مشکلات پر تشویش کی عکاسی تھا۔
وائرل ہونے کا طریقہ اور غلط معلومات کا پھیلاؤ
یہ ویڈیو سب سے پہلے 14 اپریل 2026 کو بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک اکاؤنٹ نے ایکس پر شیئر کی جس کے ساتھ ایک طنزیہ اور جذباتی کیپشن بھی شامل تھا۔اس کے بعد یہ مواد satire ہیش ٹیگ کے ساتھ وائرل ہوا اور لاکھوں ویوز حاصل کیے۔
When North Korea’s Supreme Leader Kim Jong Un announced,
“Due to a shortage of oil in the country, I will avoid my late night long drives with my wife,”
the entire nation broke down in tears, seeing Kim’s sacrifice.
This is how deeply his people love him 🥹 pic.twitter.com/rjFiyIZLok
— Saffron Sniper (@Saffron_Sniper1) April 14, 2026
اسی ویڈیو کو سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کے صارفین نے بھی اسی غلط دعوے کے ساتھ شیئر کیا۔بعض پاکستانی صارفین نے بھی اسے بغیر تصدیق کے پھیلایا جس سے اس کی رسائی لاکھوں لوگوں تک پہنچ گئی۔
فیکٹ چیک کا طریقہ کار
ائی ویریفائی کی تحقیقی ٹیم نے اس دعوے کی تصدیق کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے۔ سب سے پہلے کسی بھی مستند بین الاقوامی یا شمالی کوریا سے متعلق خبر میں اس بیان کا کوئی ذکر نہیں ملا۔
اس کے بعد ریورس امیج سرچ کے ذریعے اصل ویڈیو کا سراغ لگایا گیا جو کہ بی بی سی کے یوٹیوب چینل پر موجود تھی۔ مزید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہی خطاب مختلف عالمی اداروں جیسے سی این این، دی گارڈین اور بی بی سی کی رپورٹس میں بھی اکتوبر 2020 میں رپورٹ کیا گیا تھا۔
تمام ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کم جونگ اُن نے اپنے خطاب میں صرف قومی مشکلات، کورونا بحران اور قدرتی آفات پر بات کی تھی۔
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں کم جونگ اُن نے تیل کی قلت کے باعث رات کی ڈرائیوز چھوڑنے کی بات کی تھی مکمل طور پر غلط ثابت ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو 13 اکتوبر 2020 کی ایک پرانی تقریر ہے جسے غلط سیاق و سباق کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








