پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے جس سے قبل ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح طور پر مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا تاہم زمینی اور سفارتی صورتحال یہ اشارہ دے رہی ہے کہ امریکی وفد کے اسلام آباد پہنچنے کے امکانات برقرار ہیں، جبکہ ایران کی شرکت کے حوالے سے بظاہر ابہام پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچے گا اور یقینی طور پر ایران سے بھی ایک وفد یہاں آئے گا، مذاکرات ہوں گے اور امن کیلئے کوئی نئی راہ ضرور نکلے گی، اگرچہ یہ اتنا آسان عمل نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کی جانب سے گولہ بارود سے بھی زیادہ تیزی سے ہونے والی بیان بازی نے مصالحت اور جنگ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔
دراصل امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنے بیانات میں ایک سخت مؤقف اپنایا اور ایران بھی اپنی عزت و تکریم اور ناموس و وقار کے تحفظ کیلئے امریکا سے بھی زیادہ سخت بیانات دے رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایران امریکی بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا پاسدارانِ انقلاب پر اثر رسوخ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ باقر قالیباف نے عہد جوانی ہی سے عسکری سرگرمیوں اور جنگ میں حصہ لیا اور قاسم سلیمانی کے زمانے سے ہی آئی آر جی کے ساتھ بہترین تعلقات رہے، ان کی جانب سے بھی سخت بیانات آئے، جن میں انہوں نے کہا کہ “اگر جنگ بندی کے بعد امریکا سے جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں تو ہم میدانِ جنگ میں نئے کارڈز دکھانے کیلئے تیار ہیں”، تاہم امریکی میڈیا سمیت بین الاقوامی میڈیا بھی یہی تأثر دے رہا ہے اور اسلام آباد میں جاری تیاریوں سے بھی یہی تأثر جنم لیتا ہے کہ آج رات یا پھر کل صبح تک ایران اور امریکا کی جانب سے وفود اسلام آباد پہنچیں گے اور مذاکرات کی میز ضرور سجے گی۔
محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پہلے امریکی ٹیم پاکستان پہنچے گی اور جیسے ہی وہ امریکا سے اڑان بھریں گے، اس کے بعد ایک واضح اعلان ہوسکتا ہے ، جس سے یہ اندازہ ہوجائے گا کہ ایرانی وفد کب تک پاکستان پہنچے گا کیونکہ گزشتہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران بھی کچھ اسی طرح کی غیر یقینی صورتحال رہی لیکن پھر شکوک و شبہات کی کالی گھٹائیں چھٹیں اور مذاکرات کی میز سج گئی اور مذاکرات بھی ایسے جو 21 گھنٹوں تک جاری رہے اور متعدد نکات پر اتفاقِ رائے بھی کرلیا گیا۔ امریکا ایران مذاکرات کی کوریج کیلئے کم و بیش 400 امریکی صحافیوں نے پاکستانی ویزے کی درخواست دی ہے، جو مذاکرات پر ان کے یقین کا غماز ہے اور امریکا ایران مذاکرات اتنے اہم اور کلیدی اہمیت کے حامل ہیں کہ پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔اسی دوران عالمی سطح پر یہ بھی واضح ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندی اور ناکہ بندی اُس وقت تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات سے قبل یہ پابندیاں ختم کی جائیں۔
آج سے کچھ ہی عرصہ قبل 28 فروری کو جب امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس سے پوری دنیا کی معیشت کو جھٹکے لگیں اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا لیکن جب ایران نے آبنائے ہرمز سے چھیڑ چھاڑ شروع کی تو چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت سمجھا جانے والا امریکا بھی ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے دیگر ممالک سے مدد مانگتا ہوا نظر آیا۔ بعد ازاں ایران نے تہران کے مرکزی اور امام خمینی و مہرآباد ایئرپورٹس کو ہفتوں کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا، جو جنگی حالات میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تو امریکا کو جو سبز باغ دکھائے تھے، ان کی حقیقت جنگ کے آغاز میں ہی امریکا پر کھل گئی کہ ایران ایک ایسی قوت ہے جو اس جنگ کو لمبے عرصے تک نہ صرف کھینچ سکتی ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل جیسی قوتوں کو بھی اپنے جنگ کے فیصلے پر پچھتانے کیلئے مجبور کرسکتی ہے لیکن ایک اور حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز مڈ ٹرم الیکشن میں ری پبلکنز کے ہارنے کی سب سے بڑی وجہ بن سکتا ہے، بلکہ اگر جنگ جاری رہی تو یہ اندازہ لگانا بھی شاید کسی کے بس کی بات نہ رہے کہ ری پبلکنز آئندہ کتنے ہی سالوں تک ایران جنگ کے داغ کو دھونے میں ناکام ہوں گے اور الیکشن جیتنا ان کیلئے خواب و خیال بن کر رہ جائے گا ، اس لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے سیاسی کیرئیر اور اپنی پارٹی پر ایران جنگ سے متعلق اتنا بڑا دھبہ لگا جائیں جو دنیا بھر کی معیشتوں کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر رہا ہے اور دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے علاوہ بڑی بڑی طاقتیں اس وقت امید بھری نظروں سے ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
یہاں قابل ذکر یہ بات بھی ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین تاحال مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار جوہری افزودگی سے متعلق نکتے پر ہے، جہاں واشنگٹن ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی اور جوہری پروگرام روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ تہران اسے مسترد کرتے ہوئے اسے “پرامن تحقیقی پروگرام” قرار دیتا ہے۔ اور جب پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران گئے اور 3 روزہ دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، یقیناً انہوں نے اس نکتے پر بھی گفت و شنید کی ہوگی تاکہ دونوں ممالک کے مابین ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی راہیں ہموار کی جاسکیں۔
عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جمعرات کو مزید مذاکرات کا اعلان کیا ہے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو دونوں فریقین کی غلطی قرار دیا ، روس نے جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا جبکہ چین نے امریکی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ۔
مزید برآں مشرقِ وسطیٰ میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 2,387 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ صرف حالیہ کارروائیوں میں متعدد شہری زخمی اور گھر تباہ ہوئے ہیں، اور اسرائیل کی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث 10 روزہ جنگ بندی کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہا۔ اسی طرح غزہ میں بھی صورتحال سنگین ہے جہاں اکتوبر کی جنگ بندی کے باوجود 780 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
قوی امید یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے وفود اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے تاکہ دونوں ممالک سمیت خطے کے ممالک اور دنیا بھر میں کسی نہ کسی حد تک جاری کساد بازاری کا سبب بننے والی جنگ کو روکا جائے، آبنائے ہرمز مستقل طور پر کھول دی جائے تاکہ دنیا بھر میں تیل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت کا سلسلہ بحال ہوسکے اور دنیا ترقی و خوشحالی کی جانب بڑھ سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں