خلیجی ممالک جانے والی تاخیر کا شکار شپمنٹس کے حوالے سے حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار نے اس اقدام کو تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات پر مالی دباؤ کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر جنید انوار کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک نمایاں کمی کی جا رہی ہے جس سے خلیجی ممالک کی طرف جانے والی تاخیر کا شکار شپمنٹس سے متعلق برآمد کنندگان کو خصوصی ریلیف حاصل ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز اور کارگو پر بھی یہ ریلیف لاگو ہوگا جس کا مقصد برآمدی شعبے پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنا اور مجموعی تجارتی نظام کو سہارا دینا ہے۔ ساتھ ہی لاجسٹک مسائل کے حل اور کارگو کلیئرنس کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
اعلان کے مطابق کے جی ٹی ایل پر یکم سے 20 مارچ تک اسٹوریج چارجز میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ کے آئی سی ٹی پر یکم سے 10 مارچ کے دوران بھی 50 فیصد ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح ایس اے پی ٹی ٹرمینل پر 11 سے 31 مارچ تک اسٹوریج چارجز میں 25 فیصد کمی نافذ ہوگی۔
وفاقی وزیر بحری امور نے اس موقع پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بندرگاہی نظام کو جدید تجارتی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ برآمدات کے عمل کو مزید موثر اور آسان بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








