اسرائیل سے معاہدے ختم؟ اٹلی کی وزیرِاعظم کی کاغذات پھاڑنے کی ویڈیو وائرل! تفصیلات سامنے آگئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر 24 اپریل 2026 کو ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کاغذات پھاڑ دئیے ہیں تاہم یہ دعویٰ درست نہیں نکلا اور تصدیق کے بعد واضح ہوا کہ ویڈیو جعلی ہے اور اٹلی کی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

دعویٰ کیا تھا؟

وائرل پوسٹس میں کہا گیا کہ اٹلی کی وزیرِاعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث اسرائیل کے ساتھ ملک کے تمام معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔ یہ دعویٰ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا مگر اس کی کوئی سرکاری یا معتبر تصدیق موجود نہیں تھی۔

تحقیق اور نتیجہ

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس ویڈیو کی جانچ کے بعد اسے جھوٹا قرار دیا۔ اس مقصد کے لیے کی ورڈ سرچ، ریورس امیج سرچ اور ڈیجیٹل فرانزک ٹولز استعمال کیے گئے تاکہ ویڈیو کی اصل حقیقت سامنے آ سکے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ نہ تو کوئی ایسا حکومتی اعلان ہوا اور نہ ہی ویڈیو حقیقی ہے۔

اصل صورتحال کیا ہے؟

اگرچہ اٹلی نے 14 اپریل 2026 کو اسرائیل کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے کو عارضی طور پر معطل کیا تھا مگر ماہرین کے مطابق اس اقدام کی زیادہ تر علامتی اہمیت تھی اور اس کے عملی اثرات محدود ہیں۔

دوسری جانب اٹلی کی حکومت اب بھی یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتی ہے اگرچہ حالیہ دنوں میں لبنان پر حملوں کے حوالے سے اس کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

کشیدگی کی پس منظر کہانی

اپریل کے آغاز میں اس وقت صورتحال مزید کشیدہ ہوئی جب اٹلی نے اسرائیلی فوج پر الزام لگایا کہ اس نے لبنان میں موجود اطالوی امن دستوں کے قافلے پر وارننگ فائر کیا۔ اس واقعے کے بعد اٹلی نے احتجاجاً اسرائیلی سفیر کو طلب کیا اور بتایا گیا کہ اس واقعے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وائرل ہونے کا آغاز

24 اپریل کو ایک ایکس صارف نے یہ ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ میلونی نے کاغذات پھاڑ کر اسرائیل سے تمام معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔ اس پوسٹ کے ساتھ جذباتی اور سیاسی نوعیت کا کیپشن بھی شامل تھا جس نے ویڈیو کو مزید وائرل کر دیا۔ اسی طرح کے دعوے دیگر اکاؤنٹس، بشمول پرو ایران اور سیاسی نوعیت کے صفحات سے بھی کیے گئے اور ویڈیو کو لاکھوں ویوز ملے۔

ویڈیو میں تضادات اور تکنیکی تجزیہ

تحقیقات کے دوران ویڈیو میں کئی غیر معمولی باتیں سامنے آئیں۔ پہلے چند سیکنڈز میں چہرے کے خدوخال غیر فطری طور پر تبدیل ہوتے دکھائی دئیے جبکہ بولنے اور ہونٹوں کی حرکت بھی حقیقی انسانی رویے سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ بعض حصوں میں تاثرات بھی مصنوعی اور غیر قدرتی محسوس ہوئے۔

اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کے مطابق Detect Video AI نے اس مواد کو 72 فیصد تک مصنوعی قرار دیا جبکہ ایک اور ٹول نے اسے 65 فیصد جعلی ہونے کا امکان ظاہر کیا اور اس میں مشکوک عناصر کی نشاندہی کی۔

مزید تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ کسی بھی معتبر بین الاقوامی میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ نہیں دی کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کیے ہیں۔ اس کے برعکس رپورٹس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے بعض ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعاون معاہدے پر نظرثانی کی تجویز دی تھی مگر اٹلی اور جرمنی نے اس کی مخالفت کی تھی۔

پرانی تصاویر اور گمراہ کن مواد

ریورس امیج سرچ سے یہ بھی سامنے آیا کہ وائرل ویڈیو میں استعمال ہونے والی میلونی کی تصویر 2023 کے ایک بین الاقوامی سمٹ کی ہے نہ کہ کسی موجودہ سیاسی اعلان کی۔ یہ تصاویر مختلف پرانی رپورٹس میں پہلے بھی استعمال ہوچکی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ مواد کو گمراہ کن انداز میں دوبارہ استعمال کیا گیا۔

فیکٹ چیک

تصدیق کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اٹلی کی وزیرِاعظم کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا دعویٰ غلط ہے۔ نہ ایسا کوئی سرکاری اعلان ہوا ہے اور نہ ہی وائرل ویڈیو حقیقی ہے بلکہ یہ ایک جعلی اور گمراہ کن مواد پر مبنی کلپ ہے۔

اہم سورسز کا خلاصہ

ٹائمز آف اسرائیل رپورٹ

اٹلی اور جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ ای یو معاہدہ ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کیا

 https://www.timesofisrael.com/germany-and-italy-reject-push-by-eu-allies-to-end-association-deal-with-israel/

الجزیرہ رپورٹ

کچھ یورپی ممالک (اسپین، آئرلینڈ وغیرہ) نے بحث کی تجویز دی، مگر فیصلہ نہیں ہوا

 https://www.aljazeera.com/news/2026/4/21/spain-slovenia-ireland-push-eu-to-debate-israel-pact-suspension

ٹی آر ٹی رپورٹ

اسی بات کی تصدیق کہ کوئی معاہدہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا

 https://www.trtworld.com/article/d8fececcf59d

Related Posts