ملک ریاض کی گرفتاری اب چند دن کی بات؟ انٹرپول نے ریڈ وارنٹ جاری کردیے

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک ریاض، فائل فوٹو
ملک ریاض، فائل فوٹو

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے خلاف انٹرپول نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد ان کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ریڈ وارنٹ قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر جاری کیے گئے۔ چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں مبینہ طور پر 900 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق کیس کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق اس کیس میں اہم شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر عالمی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رجوع کیا گیا تھا۔

ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد اب متعلقہ ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر لازم ہوگا کہ وہ ملک ریاض اور علی ریاض کی موجودگی کی صورت میں انہیں حراست میں لے کر پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹ جاری ہونا گرفتاری کی ضمانت نہیں ہوتا، تاہم یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے جو ملزمان کی نقل و حرکت کو محدود کر سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی نگرانی کو ممکن بناتی ہے۔

دوسری جانب اس پیش رفت پر بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ عوامی و کاروباری حلقوں میں اس معاملے پر گہری دلچسپی پائی جا رہی ہے۔

Related Posts