ایران پر دوبارہ حملے کا بیان: کیا امریکا جنگ بندی سے پیچھے ہٹ گیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کے عندیے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر تے ہوئے عالمی برادری کو ایک بار پھر بے یقینی اور ممکنہ تباہی کے خدشات کا شکار کردیا ۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس وقت خطے کو ایک ایسے نازک موڑ پر لے آئی ہے جہاں کسی بھی لمحے صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ ایک جانب تو امریکی صدر ٹرمپ  نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے امکانات موجود ہیں اور ایرانی قیادت مذاکرات کی خواہاں ہے، جبکہ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ فوجی آپشن مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امریکی صدر اس وقت اسرائیل کے اثر و رسوخ سے شدید متأثر ہیں  اور  ایران میں صورتحال داخلی سطح پر بھی حساس ہے ۔  تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا جس کی تصدیق ایرانی خبر رساں اداروں نے بھی کی ہے، جبکہ چھوٹے ڈرونز اور مشتبہ فضائی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اور بندرگاہوں پر دباؤ کو وہ “فوجی کارروائی کا تسلسل” سمجھتی ہے اور اسے کسی صورت قابلِ برداشت نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے بھی سخت موقف سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے تاکہ اسے مستقبل میں خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔ اسی طرح لبنان میں اسرائیلی حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنگ بندی کے باوجود امن کے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ۔توانائی کی عالمی منڈی بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی سنگین معاشی چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان آج بھی ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کیلئےاپنی کاوشوں کو روبہ عمل لا رہا ہے تاہم محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اسرائیلی لابی جس نے امریکی ایوانِ اقتدار پر اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، ایک بارپھر متحرک ہوچکی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک مختصرلیکن طاقتور حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ امریکا و اسرائیل کی دیرینہ خواہش یہ تھی کہ ایران یورینیم افزودگی سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائے لیکن ایرانی قیادت تاحال اس پر ڈٹی ہوئی ہے، دوسری جانب ایران جنگ کے 60 روز کی تکمیل پر صدر ٹرمپ کو کانگریس کونوٹیفائی کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ کو مزید 30 روز کی مہلت مل جائے گی لیکن وہ مہلت تنازعے کو بڑھانے کیلئے نہیں بلکہ امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کیلئے ملے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی کا دباؤ اگرچہ سخت ہیں، لیکن تہران نے طویل عرصے سے کٹھن حالات کا سامنا کیا ہے اور وہ مکمل طور پر دباؤ میں آنے کے بجائے متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود ایران فوری طور پر کسی بڑے جھکاؤ کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔رہی جنگ بندی کی بات تو جنگ بندی اسی روز ختم ہوگئی تھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں کی سمندری ناکہ بندی کی جس کے نتیجے میں ایران کو بھاری معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے مابین سفارتی سطح پر بھی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔ سابق امریکی جنرل مارک کمٹ نے واضح کیا ہے کہ ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود فوری مذاکرات کی طرف پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے، اور امکان یہی ہے کہ تعطل کی کیفیت برقرار رہے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی دباؤ بالآخر مذاکرات کی طرف راستہ کھول سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں پر کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو۔

پھر بھی کچھ تجزیہ کار یہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکا اسرائیلی لابی کے زیر اثر رہتے ہوئے بھی اب جنگ کی بجائے جنگ بندی کیلئے زیادہ کوشاں ہوگا اور امکانات یہ ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ کو تھوڑا سا راستہ مل جائے توہ  ایران سے مستقل جنگ بندی کیلئے ڈیل کے خواہاں ہوں گے   کیونکہ دنیا اس وقت جنگ کی نہیں بلکہ امن کی منتظر ہے۔ جنگ کو 2 ماہ گزر چکے اور اتنے طویل عرصے کے بعد دونوں جانب سے اب یکطرفہ و منفی بیان بازی بھی بند کردی جانی چاہئے کیونکہ یہ لفظی گولہ باری بھی عالمی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس پر ان بیانات سے ہر روز کوئی نہ کوئی ہلچل مچ رہی ہے جسے رکنا چاہئے ، جنگ کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائےتاکہ عالمی معیشت کو استحکام مل سکے۔

اس کے برعکس آج شب ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے عسکری کمانڈرز ایران پر ایک مختصر مدتی اور طاقتور حملے پر بریفنگ دینے جارہے ہیں جس سے خطے میں آگ اور خون کا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے گا اور عالمی معیشت میں  ایک طوفان برپا کرنے سے کم کرنے سے کم نہ ہوگا۔

Related Posts