وزیر اعلیٰ پنجاب کی شراب کے نشے میں اسمبلی آمد؟ اپوزیشن کے الزام پر شدید ہنگامہ آرائی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارت پنجاب اسمبلی میں ایک روزہ خصوصی اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب کانگریس نے وزیراعلیٰ بھگونت مان پر الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ایوان کی کارروائی میں شریک ہوئے۔الزام کے بعد ایوان میں کشیدگی بڑھ گئی اور اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

کانگریس ارکان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سمیت تمام اراکین اسمبلی کا الکوحل اور منشیات کا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ صورتحال کی شفافیت واضح ہو سکے تاہم اسپیکر کلتر سنگھ سندھوان نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جبکہ حکمران جماعت عام آدمی پارٹی (AAP) نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے باعث ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں غیر مناسب حالت میں شرکت کی جس پر کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

وزیراعلیٰ بھگونت مان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور سوال اٹھایا کہ آخر ان کے خلاف یہ ٹیسٹ کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ تمام الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد صرف حکومت کو بدنام کرنا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے شفاف تحقیقات اور فوری طبی جانچ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صورتحال نے پنجاب کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے جو ایوان کے اندرونی ماحول کو مزید کشیدہ بنا رہا ہے۔

Related Posts