بھارت پنجاب اسمبلی میں ایک روزہ خصوصی اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب کانگریس نے وزیراعلیٰ بھگونت مان پر الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ایوان کی کارروائی میں شریک ہوئے۔الزام کے بعد ایوان میں کشیدگی بڑھ گئی اور اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
کانگریس ارکان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سمیت تمام اراکین اسمبلی کا الکوحل اور منشیات کا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ صورتحال کی شفافیت واضح ہو سکے تاہم اسپیکر کلتر سنگھ سندھوان نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جبکہ حکمران جماعت عام آدمی پارٹی (AAP) نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
🚨SHOCKING | Punjab CM Bhagwant Mann appeared drunk in the state Assembly, Congress demands alcohol and drug tests for him and all MLAs pic.twitter.com/9NbLqhsfFm
— The Tatva (@thetatvaindia) May 1, 2026
اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے باعث ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں غیر مناسب حالت میں شرکت کی جس پر کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ بھگونت مان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور سوال اٹھایا کہ آخر ان کے خلاف یہ ٹیسٹ کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ تمام الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد صرف حکومت کو بدنام کرنا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے شفاف تحقیقات اور فوری طبی جانچ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صورتحال نے پنجاب کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے جو ایوان کے اندرونی ماحول کو مزید کشیدہ بنا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








