اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت تنخواہوں میں کی گئی کٹوتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے پر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے تیاری کی ہدایت بھی کی۔
یہ کیس جسٹس خادم حسین سومرو نے سنا جو سرکاری ملکیتی ادارے نیشنل گرڈ کمپنی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کررہے تھے۔ عدالت نے کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری، وفاقی حکومت اور وزارت قانون و انصاف سے اس معاملے پر تفصیلی موقف طلب کیا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن نے 14 مارچ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت کفایت شعاری پالیسی کے تحت تنخواہوں میں کمی کا حکم دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں شروع کی گئی مہم کا حصہ ہے۔
وکیل نے مزید دلیل دی کہ اگرچہ وزیراعظم کی ہدایات سرکاری محکموں پر لاگو ہو سکتی ہیں تاہم انہیں سرکاری ملکیتی کمپنیوں تک نہیں بڑھایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق درخواست گزار کمپنی کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ایک خودمختار ادارہ ہے جسے روزمرہ کے معاملات میں حکومتی مداخلت کم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا اس لیے اس پر اس نوعیت کی پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








