شہباز شریف حکومت کے کفایت شعاری کے دعوے زمین بوس! چونکا دینے والی ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

وفاقی حکومت کی جانب سے سخت مالی بچت اور کفایت شعاری کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد آج دارالحکومت کے دل میں کھل کر سامنے آ گیا جب تقریباً 12:40 بجے پی ایس او پٹرول پمپ سیکٹر F6 پر ایک سرکاری گاڑی کو ٹائر تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ گاڑی کا انجن مسلسل تیس منٹ تک چلتا رہا۔

صحافی وقار بھٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ حکومت کے 14 نکاتی کفایت شعاری منصوبے کے دعووں کے بالکل برعکس منظر پیش کر رہا تھا جسے حال ہی میں بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا تھا۔

حکومت کی جانب سے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں سرکاری افسران کے ایندھن الاؤنس میں کمی اور ریاستی گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا شامل ہے، تاہم پمپ پر پیش آنے والا یہ منظر ایک مختلف ہی کہانی بیان کر رہا تھا۔ عام شہریوں کے لیے بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے دباؤ کے درمیان سرکاری گاڑی کا بلا ضرورت ایندھن جلانا ایک تلخ تضاد کے طور پر دیکھا گیا۔

موقع پر موجود ٹرانسپورٹ سپروائزر نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی بیٹری کمزور تھی، اس لیے انجن چلانا ضروری تھا تاکہ گاڑی فعال رہے تاہم یہ وضاحت وہاں موجود افراد کو مطمئن نہ کر سکی۔

شہریوں اور مشاہدین کے مطابق یہ صورتحال حکومت کے اس دعوے کے برعکس تھی جس میں کفایت شعاری کو قومی پالیسی قرار دیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ بچت کے اقدامات زیادہ تر عوام پر لاگو کیے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اس پر مکمل عمل درآمد نظر نہیں آتا۔

واقعے کی عکس بندی اور تصاویر بنانے کی کوشش کرنے والے افراد کو مبینہ طور پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ یہ رویہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سرکاری نمائندے احتساب اور عوامی نگرانی سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وفاقی حکومت جہاں معاشی اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات کو کامیابی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے وہیں یہ منظر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت کے دعوے اور عملی صورتحال کے درمیان اب بھی ایک واضح خلا موجود ہے۔

Related Posts