دنیا بھر میں جہاں صحت کے شعبے میں بیماریوں کے علاج پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں وہیں جاپان نے ایک منفرد حکمتِ عملی اپناتے ہوئے بیماریوں کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک قومی پروگرام متعارف کروایا گیا جسے عام طور پر میٹابو لاء (Metabo Law) کہا جاتا ہے۔
پروگرام کا پس منظر
جاپان کی اس پالیسی کا باضابطہ نام“Specific Health Checkups and Specific Health Guidance” ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام کو طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں خصوصاً ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ رکھنا ہے۔
کمر کا سائز کیوں اہم قرار دیا گیا؟
ماہرین کے مطابق پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر جاپان نے میٹابولک سنڈروم کو ہدف بنایا جو کئی خطرناک بیماریوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔
اس سنڈروم میں مبتلا افراد میں شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مسائل بیک وقت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
مقررہ پیمائش اور عمر کی حد
جاپانی حکومت نے 40 سے 74 سال کی عمر کے افراد کے لیے سالانہ طبی معائنے کو لازمی قرار دیا جس میں کمر کے سائز کی پیمائش ایک اہم جزو ہے۔
مردوں کے لیے حد: 85 سینٹی میٹر
خواتین کے لیے حد: 90 سینٹی میٹر
حد سے تجاوز کی صورت میں اقدامات
اگر کسی فرد کی کمر مقررہ حد سے زیادہ ہو تو اسے سزا نہیں دی جاتی بلکہ رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
ماہرین صحت کی جانب سے لائف اسٹائل کاؤنسلنگ
متوازن غذا اور ورزش کے منصوبے
باقاعدہ فالو اپ سیشنز
اداروں اور کمپنیوں کا کردار
اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ کمپنیوں اور مقامی حکومتوں کو بھی ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
اگر کسی ادارے کے ملازمین میں صحت کے مسائل زیادہ ہوں تو متعلقہ ادارے کو اضافی اخراجات یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا مقصد اجتماعی سطح پر صحت کو بہتر بنانا ہے۔
فوائد اور نتائج
ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے کئی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں:
موٹاپے میں کمی
ذیابیطس اور دل کے امراض کی روک تھام
صحت کے اخراجات میں طویل مدتی کمی
تنقید اور خدشات
اگرچہ اس پروگرام کو عالمی سطح پر سراہا گیا تاہم کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی
ذاتی آزادی میں مداخلت کا خدشہ
خواتین کے لیے مقررہ پیمائش پر سوالات
جاپان کی میٹابو لا اس بات کی مثال ہے کہ اگر صحت کے نظام میں بروقت احتیاطی تدابیر شامل کی جائیں تو بڑی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ ماڈل دیگر ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ غور مثال بن چکا ہے جہاں علاج کے بجائے روک تھام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








