چین میں ایک فوجی عدالت نے جمعرات کے روز کرپشن کے مقدمات میں دو سابق وزرائے دفاع کو معطل سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے ہیں جب صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم جاری ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق یہ سزائیں اُن سخت ترین اقدامات میں شمار ہوتی ہیں جو بیجنگ کی جانب سے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف اب تک کیے گئے ہیں۔ مذکورہ دونوں رہنما سابق وزیر دفاع وی فینگھے اور لی شانگفو ہیں جن کی سزاؤں کو دو سال کی مہلت کے بعد عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

یہ دونوں شخصیات 2018 سے 2023 کے دوران اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور چین کی طاقتور مرکزی فوجی کمیشن کا حصہ بھی رہیں جو ملک کی فوجی پالیسیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ دونوں رہنما اکثر سرکاری ٹیلی ویژن پر بھی نظر آتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق وی فینگھے کو رشوت لینے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا جبکہ لی شانگفو پر رشوت لینے اور دینے دونوں کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے تحت دونوں سابق وزرائے دفاع کو عمر بھر کے لیے سیاسی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کی ذاتی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








