سندھ والوں کے لیے بڑی خوشخبری! تین اہم ترین قلعے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ کے تاریخی ورثے سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صوبے کے تین قدیم قلعوں کو اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کی ابتدائی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس فہرست میں شامل ہونے والے مقامات میں نوان کوٹ قلعہ، عمرکوٹ قلعہ اور خیرپور میں واقع کوٹ ڈیجی قلعہ شامل ہیں جو سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور تعمیراتی وراثت کی اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔

Naukot Fort, Tharparkar – Directorate General Of Antiquities, Government Of  Sindh
Nawan Kot Fort, sindh
Umarkot Fort | Vertical Explorers
Umerkot Fort, sindh
Kot Diji Fort – Stdc
Nawan Kot Fort, sindh

سندھ محکمہ ثقافت کے حکام کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی یہ عارضی فہرست کسی بھی مقام کو عالمی ورثہ قرار دینے سے قبل ایک ابتدائی اور لازمی مرحلہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی کسی مقام کو حتمی عالمی ورثہ کی حیثیت کے لیے نامزد کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران متعلقہ مقام کی تاریخی اہمیت اس کی اصل حالت اور ثقافتی قدر کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ و ثقافت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل فتح شیخ نے اس پیش رفت کو ایک اہم اعتراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ان قلعوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مقامات نہ صرف تاریخی لحاظ سے اہم ہیں بلکہ ثقافتی اور آثار قدیمہ کی حیثیت سے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی عالمی ورثہ کا درجہ دینے سے پہلے یونیسکو ہر مقام کی مکمل چھان بین کرتا ہے تاکہ اس کی اصل حیثیت اور تحفظ کے معیار کو پرکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے سندھ میں ورثہ سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے جس سے نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان کے ایسے تاریخی مقامات بھی عالمی توجہ حاصل کریں گے جو اب تک نسبتاً کم معروف رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں کئی تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کی حالت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مقامات کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ غیر قانونی تجاوزات، ماحولیاتی اثرات اور بحالی کے لیے ناکافی فنڈنگ ان کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔

ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غیر منظم شہری توسیع اور مؤثر تحفظ کے اقدامات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود صدیوں پرانے تاریخی ڈھانچے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

فی الحال پاکستان کے متعدد تاریخی مقامات یونیسکو کی ابتدائی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ چھ مقامات کو مکمل عالمی ورثہ کا درجہ حاصل ہے جن میں موہنجو داڑو اور مکلی قبرستان جیسے عالمی شہرت یافتہ مقامات بھی شامل ہیں۔

Related Posts