وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں ایک اہم اور تاریخی فیصلے کے تحت رہائشی پلاٹس کو تجارتی استعمال میں تبدیل کرنے پر عائد طویل پابندی ختم کرتے ہوئے بلڈرز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بڑا ریلیف دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد شہر میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کئی مقدمات کا ازالہ ہو گیا ہے جبکہ پالیسی کا رخ سخت عدالتی پابندیوں کے بجائے ادارہ جاتی نگرانی اور قانون کی موثر عملداری کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل بینچ نے واضح کیا کہ اگرچہ نجی رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر نرمی اختیار کی گئی ہے تاہم عوامی سہولتی مقامات جیسے پارکس، اسپتال اور کھیل کے میدان مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور ان کی زمین کسی بھی صورت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدلیہ کا کردار قانون سازی نہیں بلکہ صرف موجودہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے اور انتظامی اداروں کے معاملات میں مداخلت اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ جسٹس عامر فاروق نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ہو تو متاثرہ افراد کو متعلقہ انتظامی فورمز یا ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
فیصلے میں یہ بھی اہم قرار دیا گیا کہ سو موٹو نوٹس کے اختیارات کا باضابطہ خاتمہ ہو چکا ہے اور اب شہریوں اور اداروں کو قانونی راستوں کے ذریعے ہی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ عدالت نے اپیل کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کو واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کی صورت میں باقاعدہ اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
جسٹس ارشد حسین نے اپنے ریمارکس میں بیوروکریسی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی افسر کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا اختیارات کے غلط استعمال کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے توقع ظاہر کی کہ ٹاؤن پلاننگ اور متعلقہ ادارے دیانت داری اور نیک نیتی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔
ادھر عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس فیصلے کے کراچی کے شہری ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ پہلے سے موجود پورشن سسٹم اور غیر منصوبہ بند کمرشلائزیشن کے باعث شہر پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اب ریگولیشن کا بوجھ براہ راست سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اداروں پر آ گیا ہے۔
فیصلے کے بعد رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جہاں گھروں کے دفاتر، دکانوں یا تعلیمی اداروں میں تبدیل ہونے سے نہ صرف جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ محلے کا رہائشی ماحول بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پہلے ہی کمزور انفراسٹرکچر پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ پانی، سیوریج، بجلی اور ٹریفک جیسے نظام اضافی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس کے نتیجے میں شہری سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عدالت نے ایک اہم نکتہ یہ بھی واضح کیا کہ پارکس، اسپتالوں اور کھیل کے میدانوں کی زمین کو کسی بھی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا جو شہر کے کم ہوتے ہوئے سبز اور عوامی مقامات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھال ہے۔
فیصلے کے بعد ایک اہم تبدیلی یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اب شہریوں کو خود غیر قانونی تعمیرات یا کمرشل سرگرمیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا ہوگی کیونکہ عدلیہ کا سو موٹو کردار ختم ہو چکا ہے جس سے عوام پر قانونی اور عملی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔
مجموعی طور پر یہ فیصلہ ایک طرف رئیل اسٹیٹ اور ترقیاتی شعبے کے لیے بڑی سہولت قرار دیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی سامنے لانے کا باعث بن سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








