گائے، بکرے اور اونٹ کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئیں؟ جانیں مویشی منڈی کی تازہ صورتحال یہاں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ 2026 کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں سرگرمی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی ہے جہاں بیوپاری، روایتی منڈیاں اور آن لائن پلیٹ فارمز روز بروز اپنی سرگرمی تیز کر رہے ہیں۔ آنے والے بڑے مذہبی تہوار کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے اور مختلف شہروں میں منڈیوں کی رونق نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔

بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیوپاریوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آ رہی ہے جبکہ عیدالاضحیٰ 2026 کی تیاریوں نے پورے ملک میں ایک نیا جوش پیدا کر دیا ہے۔ یہ منڈیاں دن بھر کھلی رہتی ہیں اور عوامی رش میں مسلسل اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صبح سے رات تک منڈیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے جو جانوروں کے انتخاب اور خریداری کے لیے مختلف علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی سرگرمی سے واضح ہوتا ہے کہ ملک بھر میں عید کے حوالے سے جوش و خروش میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

ادھر حکومتی اداروں نے شہریوں کی سہولت کے لیے اضافی مویشی منڈیوں کے قیام کی منظوری بھی دے دی ہے تاکہ خریداروں اور بیوپاریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دوسری جانب خریداروں کے مطابق اس سال قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور چارے کی مہنگائی شامل ہیں۔

مارکیٹ اندازوں کے مطابق بکرے 60 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک، گائیں 2 لاکھ سے 7 لاکھ روپے تک، بیل 3 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جبکہ اونٹ 4 لاکھ روپے سے زائد قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں تاہم قیمتیں جانور کی نسل، وزن، صحت، سائز، مقامی طلب اور علاقے کے حساب سے مختلف رہتی ہیں۔

بیوپاریوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ قیمتیں اصل اخراجات اور جانوروں کے معیار کی عکاسی کرتی ہیں کیونکہ بہتر دیکھ بھال والے جانور قدرتی طور پر زیادہ قیمت حاصل کرتے ہیں۔ انکے مطابق اچھی نسل اور صحت مند جانوروں کی مانگ ہمیشہ زیادہ رہتی ہے۔

دوسری طرف خریدار اور فروخت کنندگان دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود قربانی کے جانوروں کی خریداری میں دلچسپی کم نہیں ہوئی اور عید کے قریب آتے ہی طلب مزید بڑھ رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر خوبصورت اور صحت مند قربانی کے جانوروں کی ویڈیوز بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں جس کے باعث منڈیوں میں دلچسپی اور طلب میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسی رجحان کے باعث اجتماعی قربانی اور آن لائن قربانی کی خدمات جیسے متبادل طریقے بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں جو خریداروں کو زیادہ آسان اور سہل آپشنز فراہم کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے منڈیوں میں سیکیورٹی، رش کنٹرول، صفائی، ویٹرنری چیکنگ اور ٹریفک کے انتظامات بھی یقینی بنا دیے ہیں تاکہ شہریوں کو بہتر سہولت میسر آ سکے۔

حکام نے خریداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جانوروں کی صحت کو اچھی طرح چیک کریں مختلف منڈیوں کے نرخوں کا موازنہ کریں، جلد بازی میں خریداری سے گریز کریں اور کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچنے کے لیے احتیاط برتیں۔

Related Posts