اسٹیٹ بینک پاکستان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے ملک بھر میں گو کیش لیس مہم شروع کردی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام کو جدید مالیاتی ذرائع کی جانب راغب کرنا اور نقد لین دین پر انحصار کم کرنا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اس مہم کے تحت مویشی منڈیوں میں نقد رقم کے استعمال کو محدود کرنے اور ڈیجیٹل بینکاری نظام کو عام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام نے بتایا کہ سال 2025 میں54مویشی منڈیاں اس منصوبے کا حصہ ہوں گی جبکہ 2026 تک یہ تعداد بڑھا کر 96 کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ایس بی پی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 22 بینک مویشی منڈیوں میں خصوصی کیمپ قائم کریں گے تاکہ خریداروں اور بیوپاریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ QR کوڈ، راست اور موبائل بینکاری کے ذریعے ادائیگی کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔
مرکزی بینک نے مزید وضاحت کی کہ مویشی منڈیوں سے وابستہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ لین دین کا عمل زیادہ موثر بنایا جا سکے۔
اس مہم کو آسان بنانے کے لیے 14 مئی سے 5 جون تک ٹرانزیکشن اور اکاؤنٹ بیلنس کی حد میں عارضی نرمی بھی دی گئی ہے تاکہ صارفین بغیر کسی دشواری کے ڈیجیٹل ادائیگیاں کر سکیں۔
ایس بی پی نے مزید بتایا کہ ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں موبائل بینکاری وینز، اے ٹی ایمز اور کیش ڈپازٹ مشینیں نصب کی جائیں گی تاکہ خریدار اور فروخت کنندگان محفوظ اور سہل انداز میں اپنے مالی معاملات انجام دے سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








