سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی جرم بن گئی، مسلح افراد نے پوراگاؤں نذرِ آتش کرتے ہوئے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی اور مسلسل فائرنگ کے نتیجے میں متأثرہ علاقوں میں درجنوں خاندان بے گھر ہوگئے۔پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے 5ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں مسلح افراد کی جانب سے آتشزدگی کے کئی روز گزرنے کے بعد درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ لگائے جانے کا واقعہ 5 مئی کو جیکب آباد کے گوٹھ محمد صدیق آرائیں میں پیش آیا۔
رپورٹس کے مطابق درجنوں مسلح افراد جدید اسلحے کے ساتھ فائرنگ کر رہے تھے جبکہ ایس ایس پی جیکب آباد کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گوٹھ صدیق آرائیں اور گوٹھ غازی خان چنہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی حیدر آباد کی عدالت میں پسند کی شادی کے باعث پیش آیا۔
گاؤں کو آگ لگائے جانے کے بعد پولیس نے مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں 12 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 20 نامعلوم افراد کے نام بھی ایف آئی آر میں ملزمان کے طور پر شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش کیلئے خصوصی ٹیم کو ٹاسک دے دیا گیا، واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود بھی تمام ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے۔ درجنوں بے گھر خاندان شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








