عام آدمی کی جیبوں سے مزید اربوں روپے نکالے جائیں گے! آئی ایم ایف کاحکومت کو نیا ہدف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ایف بی آر کا ٹیکس وصولی ہدف 15.3 کھرب روپے تک پہنچ سکتا ہے جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ وصولیاں تقریباً 13.4 کھرب روپے رہنے کی توقع ہے۔

فنڈ نے اپنی رپورٹ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرا جائزہ اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے میں بتایا کہ ایف بی آر کی ممکنہ کم ٹیکس وصولیوں کے فرق کو کم کرنے اور بنیادی مالیاتی توازن کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے حکومت زیادہ تر توجہ محصولات بڑھانے پر دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکام نے عدالتوں کے حالیہ فیصلوں کے نتیجے میں ایف بی آر کے حق میں آنے والے زیر التوا ٹیکسز کی وصولی کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 0.3 فیصد یعنی 322 ارب روپے بنتی ہے جس کا بڑا حصہ سپر ٹیکس سے متعلق ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مالی سال 2026-27 میں سخت آڈٹ نظام کے ذریعے مزید 92 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس کی ذمہ داری کی بہتر نگرانی اور درست حساب کتاب سے 46 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ صنعتی پیداوار کی مؤثر نگرانی کے ذریعے اگلے مالی سال میں مزید 48 ارب روپے آمدن بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

مالی سال 2027 کے مجوزہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو جی ڈی پی کے تقریباً 0.6 فیصد کے برابر مزید محصولات جمع کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کی کم رفتار کو بہتر بنانا اور ٹیکس آمدن کے تناسب میں مسلسل اضافے کے ذریعے مالیاتی اہداف حاصل کرنا ہے۔

وفاقی سطح پر محصولات بڑھانے کی حکمت عملی میں ایف بی آر کے اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد اور ٹیکس چھوٹ میں کمی شامل ہوگی جس سے مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے تقریباً 0.3 فیصد کے برابر اضافی آمدن متوقع ہے۔ اسی تناظر میں دسمبر 2026 سے ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کی کم از کم حد کو مقداری کارکردگی کے معیار کے طور پر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومتیں خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور زرعی آمدن پر زیادہ انکم ٹیکس شرح نافذ کرنے پر توجہ دیتی رہیں گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق ایف بی آر نے اپنے اصلاحاتی پروگرام کے کئی اہم شعبوں میں پیش رفت کی ہے۔ ان میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ (CRM) سسٹم کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل انوائسنگ کے استعمال کو وسعت دینا اور بعد ازاں لازمی قرار دینا اور پیداواری نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ ٹیکس دہندگان کے ساتھ یکساں سلوک یقینی بنانے کے لیے ایف بی آر اگست 2026 کے اختتام تک ایک آڈٹ مینوئل اور پالیسی تیار کرے گا، جس کے تحت آڈٹ کیسز کے انتخاب کو مرکزی نظام کے ذریعے منظم کیا جائے گا اور زیادہ خطرے والے کیسز کی نگرانی CRM سسٹم سے کی جائے گی۔

ان اصلاحات سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن کا زیادہ امکان مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا تاہم ان اقدامات کا زیادہ تر انحصار پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان پر ہی رہے گا۔ اسی وجہ سے محصولات کے نظام کو اب نئے تاجروں اور ریٹیل شعبے کی رجسٹریشن میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کو یہ اختیار دینے پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بڑی مالیت کے مخصوص لین دین صرف انہی افراد تک محدود کر سکے جو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا ٹیکس نظام اب بھی چند مخصوص شعبوں تک محدود ہے۔ 2025 میں زرعی آمدن پر ٹیکس شرحوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تاکہ انہیں دیگر ذرائع آمدن پر لاگو ٹیکس شرحوں کے برابر لایا جا سکے لیکن اس کے باوجود حاصل ہونے والی آمدن توقعات سے کم رہی۔ اس کی بڑی وجوہات عمل درآمد میں تاخیر اور نفاذ سے متعلق مشکلات تھیں۔ اسی طرح ٹیکسٹائل، جائیداد اور کاروباری خدمات کے شعبے معیشت میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں، مگر ان سے حاصل ہونے والی خالص ٹیکس آمدن نسبتاً کم ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق زرعی آمدن پر نئی ٹیکس شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی کمائی پر لاگو ہوں گی جبکہ ان سے حاصل ہونے والے مالی فوائد مالی سال 2027 میں سامنے آئیں گے۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ زرعی انکم ٹیکس سے حاصل شدہ آمدن توقعات سے کم رہی، جس کی وجہ نئی شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل تھے۔

Related Posts