پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک نیا اور زیادہ پیچیدہ دھوکہ سامنے آیا ہے جس میں شہریوں کو بہلا پھسلا کر ان کے موبائل فون اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین نے اس حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فراڈ زیادہ تر عوامی مقامات جیسے شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشنز اور مصروف بازاروں میں کیا جا رہا ہے جہاں کچھ افراد عام لوگوں کا روپ دھار کر مدد مانگنے کے بہانے شہریوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ یہ افراد خود کو ضرورت مند ظاہر کرتے ہیں تاکہ اعتماد حاصل کر سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ مشتبہ افراد اکثر یہ کہتے ہیں کہ انہیں فون استعمال کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے یا کسی ایپ، سبسڈی یا آن لائن سروس کو چیک کرنے کیلئے فوری مدد درکار ہے یا کوئی تکنیکی مسئلہ حل کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ افراد بظاہر شائستہ، خوش اخلاق اور پُر اعتماد انداز اپناتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں وہ دباؤ ڈال کر لوگوں کو اپنے فون تک غیر ضروری رسائی دینے پر مجبور کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین نے واضح ہدایت دی ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنا موبائل فون اجنبی افراد کے حوالے نہ کریں اور نہ ہی ان کے کہنے پر کوئی ایپ، لنک یا ویڈیو کال کھولیں۔ کسی بھی مشکوک ویڈیو کال کو فوراً بند کر دینا چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل انجینئرنگ جیسے طریقے عوام کے اعتماد اور نرمی کا فائدہ اٹھا کر استعمال کیے جا رہے ہیں اس لیے ہر وقت محتاط رہنا ضروری ہے۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوراً متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں تاکہ اس طرح کے فراڈ سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
ماہرین نے مزید خبردار کیا ہے کہ معمولی سی غفلت بھی نہ صرف مالی نقصان بلکہ ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا باعث بن سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








