ڈرگ ڈیلر پنکی عدالت میں پیش: لاہور سے پکڑ کر لائے، جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے۔ملزمہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پنکی
(فوٹو: آن لائن)

کراچی میں مبینہ ڈرگ ڈیلر پنکی کو عدالت میں پیش کردیا گیا، ملزمہ نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور چیخ پکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے۔  کراچی پولیس چیف ملزمہ کی لاہور سے گرفتاری کی پہلے ہی تردید کرچکے تھے۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ بغدادی پولیس نے ملزمہ کے مزید ریمانڈ کیلئے عدالت میں پیش کیا۔ ملزمہ انمول عرف پنکی نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کیا۔ سماعت کے موقعے پر ملزمہ نے کہا کہ میرے خاندان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ لوگ مجھے مارتے ہیں اور میرا کوئی قصور نہیں۔

ملزمہ کے کیس کی پیروی ان کے وکیل میر ہدایت کر رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ دوسری جانب وکیل استغاثہ ظفر اللہ جدون کا کہنا ہے کہ ملزمہ قتل سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ ملزمہ نے بیان دیا کہ مجھے زورزبردستی کے ساتھ لوگوں کے نام کہلوائے جارہے ہیں۔

عدالت نے ملزمہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ کا اقبالی بیان نہیں ہورہا ہے۔ پنکی کے وکیل میر ہدایت نے کہا کہ مجھے ملزمہ سے بات کرنے دی جائے۔ تھانہ بغدادی پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ سے مزید تفتیش کیلئے وقت درکار ہے، عدالت مزید ریمانڈ منظور کرے۔

اس موقعے پر عدالت نے انوسٹی گیشن آفیسر سے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمہ سے کیا تفتیش کی؟عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف مزید 11کیسز درج کیے گئے ہیں۔ ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ہیں۔ تین کیسز میں پہلی بار ملزمہ کو جیل بھیجا گیا ہے۔

ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ ملزمہ کا ریمانڈ مکمل ہوگیا، لیکن پھر بھی اسے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پولیس نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی، 3 روزہ ریمانڈ کی تکمیل پر ملزمہ کو پیش کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ بہت عرصے بعد پکڑی گئی ہے۔

تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کہ قتل کیس میں کیا تفتیش ہوئی؟ کیا آپ نے مقتول کی شناخت کی؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی۔ ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ پولیس نے ملزمہ کو ایک روز کیلئے غیر قانونی طور پر رکھا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ 3 روزہ ریمانڈ کی تکمیل پر آج پیش کرنا تھا، خلاف ورزی کہاں ہوئی ہے؟

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ کو کب گرفتار کیا گیا تھا؟ ملزمہ انمول عرف پنکی نے کہا کہ مجھے 20 سے 22روز قبل گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سے ایک پرچے لا کر مجھ پر ڈالے گئے۔ عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرسکتا۔ ہم آپ کی مکمل بات سنیں گے۔

Related Posts