سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر 10 مئی 2026 سے ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے قانونی مقدمات سے متعلق حالیہ صورتحال پر بات کر رہے ہیں۔ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ یہ ویڈیو حال ہی میں جاری ہوئی ہے تاہم تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ کلپ پرانا ہے اور اس کا تعلق مئی 2023 سے ہے۔
دعویٰ یہ کیا جا رہا تھا کہ وائرل ویڈیو میں سابق وزیرِاعظم عمران خان اپنے کیسز اور قانونی معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ مختلف صارفین جن میں ایسے اکاؤنٹس بھی شامل تھے جو ماضی کی پوسٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے حامی دکھائی دیتے ہیں اس ویڈیو کو نئے سیاق و سباق کے طور پر پھیلا رہے تھے۔
فیکٹ چیک کے مطابق آئی ویریفائی ٹیم نے اس ویڈیو کی جانچ پڑتال کی اور اسے گمراہ کن قرار دیا۔ ٹیم نے گوگل ریورس امیج سرچ اور کی ورڈ سرچ کے ذریعے ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ویڈیو اصل میں 12 مئی 2023 کو اپلوڈ کی گئی تھی۔ یہ کلپ عمران خان کے اس پیغام کا حصہ ہے جو انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد جاری کیا تھا۔ وائرل ہونے والا حصہ اسی پرانی ویڈیو کے تقریباً 1 منٹ 19 سیکنڈ کے مقام سے لیا گیا ہے۔
اس وقت عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں 14 سال قید کی سزا توشہ خانہ کیس سمیت دیگر مقدمات میں سنائی جا چکی ہے۔ ان کی جماعت اور اہلِ خانہ کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی طبی سہولیات پر سوالات موجود ہیں۔
وائرل پوسٹ کا آغاز 10 مئی کو ایک ایسے ایکس صارف کی جانب سے ہوا جسے سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر افغانستان کے حق میں جھکاؤ رکھنے والا اکاؤنٹ سمجھا جاتا ہے۔اس پوسٹ کے کیپشن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عدالت نے عمران خان کو بری کر دیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف سازش کر رہی ہے۔
#الرئيس_الباكستاني السابق #عمران_خان:
محکمې زه بېګناه اعلان کړم او پر ما هېڅ تور نشته خو پوځ لا هم زه محاصره ساتلی یم هغوی زموږ پر ضد توطیه جوړه وي دپاکستان ولس باید دې سناریو ته متوجه وي
پوځ هغه له واکه لرې کړ او د امریکا په اشاره یې پر پاکستان خپله واکمني ټینګه کړه. pic.twitter.com/7esmCTEunq— Ziaulla_m _ضیاءالله_م 🎤🎤 (@Ziaullahmujahi2) May 10, 2026
اسی ویڈیو میں عمران خان کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں عدالت سے ریلیف مل چکا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں روکا جا رہا ہے، اور وہ قوم کو پرامن احتجاج کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسی طرح کے بیانات اس کلپ میں شامل ہیں جنہیں مختلف صارفین نے دوبارہ شیئر کیا۔
یہی ویڈیو بعد میں ترک میڈیا آؤٹ لیٹ Habernas اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی شیئر کی جس سے اس کی رسائی اور کنفیوژن مزید بڑھ گئی۔ کئی صارفین نے اس کی تاریخ پر سوال بھی اٹھائے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں۔
🔴 Ordu tarafından devrilen Pakistan Eski Başkanı İmran Khan Pakistan halkına seslendi:
Mahkeme beni beraat ettirdi ve hakkımda hiçbir suçlama yok, ancak ordu beni kuşatma altında tutuyor ve bize karşı komplo kuruyor. Pakistan halkı bu durumun farkında olmalı. pic.twitter.com/LDf3UzNNYU
— HABERNAS (@Habernasonline) May 11, 2026
تحقیقات کے مطابق کسی بھی پوسٹ میں ویڈیو کی درست تاریخ اور اصل پس منظر واضح نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے عوام میں ابہام پیدا ہوا۔ فیکٹ چیک میں یہ بھی تصدیق ہوئی کہ اس ویڈیو کا تعلق 12 مئی 2023 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے واقعے سے ہے۔
آخری نتیجے کے طور پر واضح کیا گیا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ پرانی ہے جسے غلط طور پر نئے سیاق میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ثبوت اور حوالہ جات:
May 12, 2023, YouTube video:
May 13, 2023, FRANCE 24 Español YouTube video:
May 12, 2023, Geo News report:
https://www.geo.tv/latest/487041-imran-issues-ultimatum-after-authorities-prohibit-him-from-leaving-ihc
May 13, 2023, The Wire news report:
https://thewire.in/south-asia/pakistan-islamabad-hc-orders-release-of-imran-khan-after-granting-him-bail
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








