غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل آئندہ ہفتے ایران پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں اور بعض یوٹیوبرز کا ماننا ہے کہ یہ حملہ پہلے سے بڑا اور خطرناک ہوگا، جس پر خطے کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کے باعث بین الاقوامی تجارت، تیل برآمدات اور عمومی مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف کارروائیوں کی اب تک کی سب سے شدید تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایران کے فوجی اڈوں اور انفراسٹرکچر پر شدید بمباری بھی کی جاسکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق خلیج فارس میں تیل برآمدات کے اہم ایرانی مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے جبکہ جوہری مواد کو ایران کی مرضی کے خلاف نکالنے کیلئے کمانڈوز تعینات کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی دھمکیاں پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں۔ ایک حالیہ بیان میں ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کا اسرائیلی چینل سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ اسرائیل فوری جنگ کیلئے تیار ہے۔ ہم صدر ٹرمپ کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران جنگ بندی پاکستان کیلئے فیور کے طور پر دی گئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کی طویل کوششیں تاحال جاری ہیں، پاکستان نے ثالثی ترک کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا تاہم جنگ بندی دونوں فریقین کی رضامندی پر منحصر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








