جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گاؤں جلانے کا افسوسناک واقعہ، وزیر اعلیٰ کا نوٹس

تازہ ترین

تازہ ترین

جیکب آباد
(فوٹو: ری پبلک پالیسی)

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے جیکب آباد میں پسند کی شادی کے باعث پورے گاؤں کو آگ لگانے کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پسند کی شادی کی پاداش میں پورے گاؤں کو آگ لگانے کے واقعے پر  وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نےکہا کمشنر لاڑکانہ متاثرین کی فوری مدد کرنے کیلئے  ہر ممکن اقدامات کریں،  پتہ لگایا جائےکہ گھروں کو کس کے حکم پر جلایا گیا، کسی کو عوام کے جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 100 سے زائد گھروں کو  جلانے کو  غیر انسانی اور ناقابل برداشت عمل قرار دیا۔ واضح رہے کہ جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے پر 100 سے زائد گھروں کو جلانے کے واقعے پر متاثرہ علاقے میں آج بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی جرم بن گئی، مسلح افراد نے پوراگاؤں نذرِ آتش کرتے ہوئے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی اور مسلسل فائرنگ کے نتیجے میں متأثرہ علاقوں میں درجنوں خاندان بے گھر ہوگئے۔پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے 5ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

حال ہی میں جیکب آباد میں مسلح افراد کی جانب سے آتشزدگی کے کئی روز گزرنے کے بعد درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ لگائے جانے کا واقعہ 5 مئی کو جیکب آباد کے گوٹھ محمد صدیق آرائیں میں پیش آیا۔

Related Posts