امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد بیجنگ نے امریکی طیاروں اور انجنوں کی خریداری سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کی تصدیق کی ہے جس کے تحت کم از کم 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
چین کی وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق یہ پیش رفت ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چین نے بڑے پیمانے پر طیارے خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
چینی حکومت اور نہ ہی امریکی کمپنی بوئنگ کی جانب سے اس معاہدے کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے جس سے اس بڑے آرڈر کی حتمی حیثیت پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔ عام طور پر اس نوعیت کے بڑے معاہدے صرف حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد ظاہر کیے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بوئنگ کے سی ای او کیلی آرٹبرگ بھی ان امریکی کاروباری رہنماؤں میں شامل تھے جو ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ گئے تھے تاکہ چین کے ساتھ تجارتی مواقع بڑھائے جا سکیں۔
یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ اعلان کردہ 200 طیاروں میں کتنے نئے آرڈرز شامل ہیں اور کتنے پہلے سے موجود آرڈر بک کا حصہ ہیں۔
چین کی خریداری کی سابقہ پالیسیوں سے واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اکثر نئے اور پرانے آرڈرز کو ملا کر بڑے تجارتی معاہدوں کی شکل میں پیش کرتا ہے خاص طور پر جب ایسے معاہدے غیر ملکی رہنماؤں کے دوروں سے منسلک ہوں۔
چین کے لیے اس نوعیت کی بڑی خریداری اس کی بڑھتی ہوئی فضائی صنعت کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے خاص طور پر اس وقت جب مقامی کمپنی COMAC C919 کی پیداوار مطلوبہ اہداف سے کم ہے۔
یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی ایک اہم سیاسی اور تجارتی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی تجارتی پالیسیوں کے باوجود امریکہ کا تجارتی خسارہ نمایاں طور پر کم نہیں ہو سکا۔
اگر یہ آرڈر مکمل ہوتا ہے تو یہ عالمی تاریخ کا سب سے بڑا ہوائی جہازوں کا معاہدہ ہوگا، جو 500 سے زائد طیاروں پر مشتمل ہوگا تاہم امکان ہے کہ یہ مختلف سرکاری ایئر لائنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
ابتدائی توقعات سے کم آرڈر کی خبروں کے بعد بوئنگ کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ مارکیٹ میں GE Aerospace کے شیئرز بھی نیچے آئے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق ابتدائی مذاکرات میں 500 سے زائد طیاروں کے آرڈرز پر بات چیت جاری تھی جن میں بعد ازاں مزید طیاروں کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے خریداری کے فیصلوں میں بعد از فروخت سروس اور سپورٹ سے متعلق تحفظات اہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پرزوں کی برآمد پر پابندی یا پابندیوں کا خطرہ برقرار رہے تو خریدار کمپنیاں بڑے آرڈرز دینے سے ہچکچاتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








