کراچی میں منشیات فروشی کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا جہاں سندھ حکومت نے اسے ایک بڑے منظم نیٹ ورک کا حصہ قرار دے دیا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے انکشافات نے نہ صرف شہر میں پھیلتے منشیات کے کاروبار پر سنگین سوالات اٹھا دیئے بلکہ اس خطرناک دھندے کے پسِ پردہ موجود طاقتور روابط کی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھی جبکہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
منشیات کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انمول عرف پنکی زہر فروخت کرنے والی خاتون تھی اور اس کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص فرد یا حکومت کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس خطرے کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی کئی افراد کے لیے منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ایسے معاملات کو غیر ضروری تشہیر یا گلیمرائز نہ کیا جائے کیونکہ منشیات کی وجہ سے روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت مختلف بحالی مراکز پر کام کر رہی ہے تاہم یہ مسئلہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں منشیات کے عادی ایک نوجوان نے اپنے ہی گھر والوں پر فائرنگ کر دی تھی جس سے صورتحال کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں کیونکہ نشے کے عادی نوجوان کسی حد تک بے قابو ہو جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








