عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں جہاں ایران جنگ کے باعث واشنگٹن اور تہران کے مابین پاکستان کی سفارت کاری اور ثالثی کا کردار ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے اہم ممالک، بشمول امریکہ اور چین، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو نہ صرف تسلیم کر رہے ہیں بلکہ اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کی اسی سفارتی ساکھ کے باعث اسے ایران، امریکہ، خلیجی ممالک اور چین جیسے اہم فریقین کا اعتماد حاصل ہوا ہے، جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی متعدد بار کی گئی ہے، جنہوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
یہ اعتماد کسی اچانک پیش رفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی حکمتِ عملی اور توازن پر مبنی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں خود کو ایران اور امریکا کے مابین محاذ آرائی ختم کرنے کیلئے ایک پل کے طور پر منوایا ہے جب عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ تنازعے کی بجائے بالواسطہ سفارت کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ عالمی پیش رفتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طاقت کا مرکز اب تیزی سے “گلوبل نارتھ” سے “گلوبل ساؤتھ” کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جہاں ابھرتی ہوئی معیشتیں اور علاقائی طاقتیں عالمی فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات اس تبدیلی کا واضح اظہار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے کے دوران ہونے والی دو روزہ بات چیت نے اگرچہ کوئی بڑا بریک تھرو فراہم نہیں کیا، تاہم اس نے ایک اہم حقیقت کو نمایاں کیا کہ دونوں ممالک اب ایک مستقل “سٹریٹجک اسٹینڈ آف” کی حالت میں واپس آ چکے ہیں، جیسا کہ گزشتہ سال کے تجارتی تنازع کے بعد دیکھا گیا۔ اس ملاقات میں اگرچہ ایلون مسک اور جینسن ہوانگ جیسے بڑے کاروباری رہنما بھی موجود تھے، لیکن عملی نتائج محدود رہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں طاقتیں ایک نئے مگر غیر مستحکم توازن کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
اس تجارتی و سفارتی ماحول میں امریکہ اور چین دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت موقف سے جزوی طور پر پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی ابتدائی جارحانہ ٹیرف پالیسی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تجارتی صورتحال دوبارہ کسی قدر استحکام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان سویا بین، گوشت اور دیگر زرعی اجناس کی تجارت پر دوبارہ گفت و شنید ہوئی، جبکہ بعض شعبوں میں ٹیرف میں نرمی پر بھی بات چیت سامنے آئی، جس سے اقتصادی سطح پر کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ امریکہ چین کی صنعتی پالیسیوں اور ایشیا پیسیفک میں بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کو ایک اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ چین اس پورے عمل کو اپنے اندرونی معاشی استحکام اور تکنیکی ترقی کیلئے ایک ضروری مرحلہ تصور کرتا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی جانب سے اس تعلق کو “تعمیری اسٹرٹیجک استحکام ” کے طور پر بیان کرنا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اب مکمل تصادم کے بجائے محدود اور کنٹرولڈ مسابقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں تائیوان کا مسئلہ بھی ایک حساس تنازع کے طور پر برقرار ہے، جہاں چین اسے اپنی خودمختاری کا لازمی حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ باضابطہ طور تائیوان کی چین سے آزادی کی حمایت نہ کرتے ہوئے بھی عملی طور پر دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ بیانات میں صدر ٹرمپ کا محتاط انداز اور براہِ راست تصادم سے گریز اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن بھی اب اس مسئلے کو فوری جنگی بحران میں بدلنے سے گریزاں ہے۔
عالمی سطح پر ایک اور اہم پہلو آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی سکیورٹی سے متعلق ہے، جہاں مختلف طاقتیں کھلے راستوں اور تجارتی آزادی پر اتفاقِ رائے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ معاشی سطح پر بھی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تناؤ میں نرمی کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر انحصار کے ساتھ ساتھ مقابلے کی کیفیت میں بھی ہیں۔ امریکہ کو چینی منڈی اور سپلائی چین کی ضرورت ہے، جبکہ چین کو امریکی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی مالیاتی نظام میں رسائی درکار ہے۔ یہی باہمی انحصار اس کشیدگی کو مکمل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہیں۔ پاکستان کا کردار صرف دوطرفہ تنازعات میں ثالثی تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسے عالمی ماحول کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے جہاں بات چیت، مفاہمت اور اقتصادی مفادات کو جنگی محاذ آرائی پر فوقیت دی جاسکتی ہے اور پاکستان کی کوششوں کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ عالمی پیش رفتوں میں پاکستان کے کردار کو بھارت کے سوا تقریباً تمام بڑے فریقین نے تسلیم کیا ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے اعتراف نے اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ بعض مواقع پر یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے ایران اور دیگر فریقین کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں عملی کردار ادا کیا، جس سے خطے میں ایک بڑے بحران کے امکانات محدود ہوئے۔
اقتصادی اور تزویراتی لحاظ سے بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض پابندیوں میں نرمی کے بعد چینی توانائی کے شعبے میں دوبارہ بحالی کے آثار نظر آ رہے ہیں، جہاں روزانہ بڑی مقدار میں تیل کی درآمد دوبارہ ممکن ہونے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور چین کے درمیان زرعی اور صنعتی تعاون میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ چین اور امریکہ کے تعلقات میں زبان اور رویے کی تبدیلی بھی قابلِ غور ہے۔ جہاں پہلے سخت بیانیہ غالب تھا، اب وہاں “دوست” کے بجائے “شراکت دار” جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک ایک نئی حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں: مکمل تعاون بھی ممکن نہیں اور مکمل دشمنی بھی ناقابلِ برداشت ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ عالمی نظام ایک ایسے عبوری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پرانے اتحاد اور روایتی طاقت کے ڈھانچے اپنی جگہ نئے اقتصادی اور سفارتی توازن کو راستہ دے رہے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک فعال اور متوازن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا اس وقت ایک نازک مگر اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں جنگیں کم اور مذاکرات زیادہ اہم ہو چکے ہیں، اور جہاں معاشی مفادات، اسٹریٹجک حقیقت پسندی اور سفارتی توازن مستقبل کی عالمی سیاست کی سمت متعین کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں