عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد، یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اشتعال انگیز بیانات میں کسی حد تک کمی لائیں گے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکے، تاہم بدقسمتی سے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ کا آغاز براہِ راست امریکا نے نہیں بلکہ اسرائیل نے کیا، جبکہ امریکا کے اندر موجود طاقتور اسرائیلی لابی آج بھی اس قدر فعال ہے کہ وہ واشنگٹن کو اپنے سخت مؤقف اورمستقل جنگ بندی کیلئے شرط کے طور پر کیے گئے مطالبات سے پیچھے ہٹنے نہیں دے رہی۔ یہی سبب ہے کہ خطے میں جنگ کی کالی گھٹائیں چھٹنے کے بجائے مزید گہری ہوتی محسوس ہورہی ہیں۔
ایران جنگ کا ایک نہایت خطرناک اور حساس پہلو آبنائے ہرمز سے منسلک ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔ ایران نے واضح کردیا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے ایک نیا منصوبہ متعارف کرائے گا، جس کے تحت مخصوص راستوں پر جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کیا جائے گا اور خصوصی خدمات کے عوض فیس بھی وصول کی جائے گی۔ ایرانی قانون ساز ابراہیم عزیزی کے مطابق صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو اس سہولت سے فائدہ پہنچے گا۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب “دشمن” کے فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو تہران کو “بہت برا وقت” دیکھنا پڑے گا۔ دوسری طرف امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی ناکہ بندی جاری رکھتے ہوئے 78 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے اور چار بحری جہازوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کرچکی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران جنگ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بعض خلیجی ممالک بھی کھل کر یا پس پردہ تعاون کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان ممالک کی خواہش یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایران کو اس نہج تک کمزور کردیا جائے کہ وہ اپنی عسکری صلاحیت، علاقائی اثرورسوخ اور عالمی ساکھ کی بحالی کے لیے دوبارہ میزائل حملے کرنے کے قابل نہ رہے۔ تاہم اگر ایران نے ردعمل میں آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں سخت پابندیوں کا راستہ اختیار کیا تو پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی معیشت مزید کساد بازاری، مہنگائی اور توانائی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔
ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ دنیا ایک “نئے عالمی نظام” کے دہانے پر کھڑی ہے اور مستقبل “گلوبل ساؤتھ” یعنی ترقی پذیر ممالک کا ہے۔ یہ بیان نہ صرف ایران کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ تہران خود کو عالمی طاقتوں کے مقابلے میں تنہا محسوس نہیں کرتا، بلکہ اسے چین، روس اور کئی دیگر ممالک کی سفارتی یا عملی حمایت حاصل ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی تنازع بدستور یورینیم افزودگی کے مسئلے پر مرکوز ہے۔ اسرائیل اور امریکا بضد ہیں کہ ایران کے پاس موجود تقریباً 240 کلوگرام افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے، لیکن ایران اسے کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ایٹمی توانائی کا پُرامن استعمال اور یورینیم افزودگی اس کا قانونی اور خودمختار حق ہے۔ اگرچہ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران شاید روس یا چین کو یہ مواد منتقل کرنے پر آمادہ ہو جائے، مگر امریکا جیسے کھلے مخالف کو یہ اثاثہ دینے کے لیے ایران کبھی تیار نہیں ہوگا، کیونکہ ایرانی قیادت متعدد مواقع پر واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔
امریکا نے حالیہ دنوں میں یہ عندیہ دے کر ایک چھوٹا سا سفارتی دروازہ کھلا رکھا ہے کہ امریکا یا چین “نیوکلیئر ڈسٹ” یا حساس جوہری مواد کو ایران سے منتقل کرنے کی تکنیکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اشارہ اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ مکمل تصادم کے بجائے اب بھی مذاکرات کی گنجائش باقی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہوچکا ہے، جس کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ تہران، جو ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے کیا گیا، خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کا یہ دورہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کے چند روز بعد سامنے آیا، جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے بلکہ خطے سے جنگ کو ٹالنے کیلئے اپنی ثالثی کی کوششیں آخری لمحے تک جاری رکھنا چاہتا ہے۔
یہ امید بھی بڑھ رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کسی نئے عسکری تصادم سے قبل ایک بار پھر اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں تاکہ جنگ بندی یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا کوئی قابل قبول راستہ نکالا جا سکے۔ تاہم اصل رکاوٹ یورینیم افزودگی ہی ہے، جس پر دونوں ممالک اپنی اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔
دوسری جانب ایران کو اس جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایرانی دعووں کے مطابق صرف تہران میں 51 ہزار عمارتیں متاثر یا تباہ ہوئی ہیں، جبکہ پورے ملک میں یہ تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے بلکہ بعض رپورٹس میں تو یہ تعداد 1 لاکھ 25 ہزار کے قریب بھی بتائی گئی اور تقریباً 3500 ایرانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی ترقی کو “20 سال پیچھے دھکیل دیا”۔ اگرچہ اس دعوے کو مبالغہ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی تعمیر نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اور جنگ سے پہلے والے ایران کو بحال کرنا ایرانی معیشت کے لیے ایک انتہائی مشکل خواب ثابت ہوسکتا ہے۔
ادھر خطے میں اسرائیلی کارروائیاں لبنان تک پھیل چکی ہیں، جہاں جنوبی لبنان میں اسرائیل کی بمباری جاری ہے اور حالیہ دنوں میں زوتر الشرقیہ سمیت 100 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع ضرور ہوئی ہے، مگر زمینی حقائق جنگ بندی کی کمزوری آشکار کرتے ہیں اور مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کی کشمکش، اسرائیلی دباؤ، ایرانی مزاحمت اور خلیجی مفادات ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان جیسا ملک ہے جو سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے ایک تباہ کن جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ سکتا ہے بلکہ پاکستان عالمی سفارتی منظرنامے پر ایک مؤثر اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر مزید مضبوط مقام حاصل کرسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں