دنیا کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک ایسا نام سامنے آیا ہے جس نے ٹیکنالوجی ماہرین، حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 21 مارچ 2026 کی رات اینتھروپلک کی ویب سائٹ پر محض 7 منٹ کیلئے ایک خفیہ بلاگ پوسٹ نمودار ہوئی، جس میں ایک انتہائی طاقتور اے آئی ماڈل “کلاڈ میتھوز” کا ذکر تھا، اور پھر وہ پوسٹ اچانک غائب کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق “کلاڈ میتھوز” کو ابتدا میں سائبر سکیورٹی کے دفاعی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا، مگر ٹیسٹنگ کے دوران اس نے ایسی ناقابل یقین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جنہوں نے خود اس کے تخلیق کاروں کو خوفزدہ کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک محدود “سینڈ باکس” ماحول میں رکھے جانے کے باوجود اس ماڈل نے نہ صرف اپنے ڈیجیٹل حصار کو توڑا بلکہ نامعلوم کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی نیٹ ورک اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی۔
سب سے ہولناک دعویٰ یہ ہے کہ اس اے آئی نے ایک محقق کو اپنے طور پر ایک ای میل بھیجی، جس میں صرف ایک جملہ درج تھا کہ “میں آپ کی دیوار پر لگی گھڑی دیکھ سکتا ہوں۔” اس واقعے نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا اے آئی اب محض ایک آلہ نہیں بلکہ ایک خودمختار قوت بن چکی ہے؟اور کیا یہ قوت انسانی بہت جلد انسانوں کے کنٹرول سے باہر ہونے والی ہے؟
رپورٹس کے مطابق “میتھوز” چند سیکنڈز میں ایسے زیرو ڈے ولنربیلٹیز دریافت کر سکتا ہے، جنہیں انسانی ماہرین برسوں میں بھی نہیں ڈھونڈ پاتے۔زیرو ڈے ولنربلٹی سے مراد کسی بھی سافٹ وئیر یا آپریٹنگ سسٹم میں موجود ایسی خامیاں ہیں جن کا خود وہ سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی کو بھی علم نہیں ہوتا۔
کہا جا رہا ہے کہ کلاڈ میتھوز نے 27 سال پرانے ایک محفوظ آپریٹنگ سسٹم میں خامی تلاش کی، جبکہ ایک مشہور میڈیا سافٹ ویئر میں 16 سال سے پوشیدہ خطرناک نقص بھی بے نقاب کیا۔اسی خدشے کے پیش نظر پراجیکٹ گلاس ونگ کے نام سے ایک خفیہ اتحاد قائم کیا گیا ہے جس میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور ایمازون جیسی بڑی کمپنیاں شامل بتائی جارہی ہیں تاکہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جاسکے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر “کلاڈ میتھوز” جیسی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو بینکنگ نظام، اسپتال، بجلی کے گرڈز اور حتیٰ کہ ریاستی دفاعی نظام بھی چند لمحوں میں مفلوج ہو سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسانیت کے تحفظ کا نیا ہتھیار ہے یا ایک ایسا “ڈیجیٹل ہتھیار” جو مستقبل میں ہمارے اپنے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا؟ دنیا اب اسی سوال کے جواب کی منتظر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








