اقوامِ متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان نے افغانستان میں درست آپریشنز کیے۔
تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل میں سالانہ مباحثے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کو بیرونِ ملک برآمد کرتا ہے، لوگوں پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرتا ہے اور اندرونِ ملک اقلیتوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
گفتگو کے دوران قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے، خطے میں جارحیت کا مرتکب ہوتا ہے اور پھر دوسروں کو شہریوں کے تحفظ کا درس دینے کی بھی کوشش کرتا ہے جبکہ پاکستان امن، مکالمے، تنازعات کے پرامن حل اور عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت دہشت گردی، قبضے، جارحیت، ظلم و جبر اور بین الاقوامی قوانین سے انحراف کے باعث بے نقاب ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ قونصلر صائمہ سلیم نے یہ گفتگو سلامتی قونصل کے سالانہ مباحثے برائے شہری تحفظ کے دوران بھارتی نمائندے کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کی۔
India is a country that exports terrorism abroad, occupies people by force, persecutes minorities at home, weaponizes water, commits aggression in the region, and then tries to lecture others on the protection of civilians.
While Pakistan stands for peace, dialogue, peaceful… pic.twitter.com/vMPmALtNO4
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 21, 2026
صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ بھارت کے پراکسی گروہ ہیں۔ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست آپریشن کیے۔ طالبان حکومت کے الزامات گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ چھپا نہیں سکتا۔ مقبوضہ وادی میں شہریوں کو قتل، گرفتار اور بے دخل کیا جارہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر ظلم معمول بن چکا، جبکہ سندھ طاس معاہدے کو بھارت نے معطل کر رکھا ہے۔ پاکستان امن اور قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








