میرے بھائی کو جان سے مار دینگے! سنگین جرائم میں مفرور ملزم کی بہن کی عدالت میں دُہائی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بیرونِ ملک سے واپسی پر ممکنہ گرفتاری یا مبینہ پولیس مقابلے کے خدشات نے ایک بار پھر قانونی اور سیکیورٹی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک شہری کی ہمشیرہ نے اپنے بھائی کی حفاظت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمان سے واپس آنے والے شہری کو پاکستان پہنچنے کے بعد فوری طور پر متعلقہ عدالت میں پیشی تک مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

درخواست گزار نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ شہری کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس کے کسی افسر کو خصوصی طور پر نامزد کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے معاملے کو باضابطہ طور پر آگے بڑھا دیا ہے۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی بہن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے بھائی کو وطن واپسی پر سی ٹی ڈی مقابلے میں نقصان پہنچایاجاسکتا ہے۔اس موقف نے کیس کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

مذکورہ شہری پانچ مختلف مقدمات میں نامزد ہے تاہم وکیل کے مطابق وہ پاکستان واپس آ کر قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ وکیل نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ شہری کو کسی نامزد پولیس افسر کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ رہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ معاملے کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور متعلقہ ادارے اپنی رپورٹ جمع کروائیں۔

Related Posts