کراچی میں امن ہے تو پھر بھتے کی پرچی کہاں سے آئیں؟ تاجروں کو قتل کی دھمکیاں مگر سرکار خاموش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے تاجروں کو ایک بار پھر بھتہ خوروں کی دھمکیوں کا سامنا ہے کیونکہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں متعدد کاروباری افراد کو بھتے کی پرچیاں موصول ہونے کے بعد تاجروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

پولیس کے مطابق کراچی کے ضلع سینٹرل، خصوصاً نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں بھتہ خوری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مٹھائی کے کاروبار سے وابستہ تاجر بلال سے ایک ملین روپے بھتہ طلب کیا گیا جبکہ سگریٹ کے کاروبار سے منسلک ایک اور تاجر صادق سے ڈیڑھ ملین روپے مانگے گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے مقدمات نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تھانے میں درج کر لیے گئے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 17 مئی کی رات ایک نامعلوم شخص دکان پر آیا اس نے ایک لفافہ دیا جس میں بھتے کی پرچی موجود تھی، اور پھر فوری طور پر فرار ہوگیا۔ پرچی میں تاجر سے ایک ملین روپے طلب کیے گئے تھے اور دھمکی دی گئی تھی کہ اگر جان عزیز ہے تو رقم 4K چورنگی پر پہنچا دی جائے۔

ایک اور واقعے میں ایک نامعلوم خاتون دکان میں داخل ہوئی بھتے کی پرچی دی اور فوراً وہاں سے نکل گئی۔ میڈیا کو موصول ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون موٹر سائیکل پر دکان کے قریب پہنچے۔ خاتون دکان کے اندر گئی پرچی دی اور تیزی سے واپس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہوگئی۔

بھتہ خوروں کی جانب سے تاجر صادق سے مبینہ طور پر ڈیڑھ ملین روپے طلب کیے گئے اور خبردار کیا گیا کہ اگر پولیس کو اطلاع دی گئی یا کسی کو اس بارے میں بتایا گیا تو باپ اور بیٹے دونوں کو قتل کردیا جائے گا۔

پے در پے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کے تاجروں میں شدید خوف اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری کے اس نیٹ ورک میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts