وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر چلنے والے غیر قانونی اعضا کی پیوندکاری کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں ایک معروف یورولوجسٹ اور اسپتال کا ایک ملازم بھی شامل بتایا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ گروہ مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے گردوں کی پیوندکاری کے عمل میں ملوث تھا اور جنوبی پنجاب کے معاشی طور پر کمزور افراد کو اس نیٹ ورک کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
ایف آئی اے اسلام آباد کا قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال پر چھاپہ۔ غیر قانونی انسانی اعضاء کی پیوند کاری اور گردوں کی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورک کا معروف ڈاکتربنگش گرفتار ہسپتال چیف فرار۔ گردے فروخت کرنے اور خریدنے والے بھی متعدد گرفتار۔۔ pic.twitter.com/97VQ9sCrDv
— Zaman Mughal (@ZamanMu02130704) May 20, 2026
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی اسلام آباد کے ایک بڑے نجی اسپتال پر چھاپے کے بعد عمل میں لائی گئی جہاں شبہ ظاہر کیا گیا کہ غیر قانونی طور پر گردے نکالنے کے آپریشن کیے جا رہے تھے۔تفتیش کاروں نے ڈاکٹر اور اسپتال کے اہلکار کو اس مبینہ نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں میں شامل قرار دیا ہے۔
یہ کارروائی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل عثمان انور اور اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر سید شہزاد ندیم بخاری کی ہدایات پر شروع کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ تحقیقات ایک وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں ایک منظم گروہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر جنوبی پنجاب، خصوصاً رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان کے غریب اور کم آمدنی والے افراد کو نشانہ بنا رہا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس گروہ پر الزام ہے کہ یہ مالی طور پر کمزور افراد کو معمولی رقم کے عوض اپنے گردے فروخت کرنے پر آمادہ کرتا تھا جبکہ بعد میں انہی اعضا کو بڑی رقم کے عوض غیر قانونی طور پر آگے فروخت کیا جاتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








