خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ہونے والی ملاقات پر اٹھنے والے سوالات اور علیمہ خان کی تنقید کے بعد اس ملاقات کی وضاحت جاری کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے علیمہ خان کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محسن نقوی سے ملاقات صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور بنوں میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں ہوئی تھی۔
میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی جو کہ رپورٹ کی جا رہی ہے- https://t.co/JQkBKs5Z17
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) May 24, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات میں کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعوے کیے جا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات کا مقصد صرف بنوں میں دہشتگردی کے واقعات اور صوبائی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو تھا تاہم سیاسی معاملات زیرِ بحث نہیں آئے۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب علیمہ خان نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سہیل آفریدی نے عمران خان کے اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر محسن نقوی سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کا کوئی فرد اس ملاقات سے آگاہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی اس میں شریک ہوا۔
اس سے قبل ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی بیرسٹر گوہر کے گھر پر ملاقات ہوئی جسے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور رابطوں سے جوڑا جا رہا تھا تاہم علیمہ خان نے ایسی کسی ملاقات میں شریک ہونے کی تردید کر دی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








