محسن نقوی سے ملاقات میں آخر کیا بات ہوئی؟ وزیر اعلیٰ کے پی نے خاموشی توڑ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ہونے والی ملاقات پر اٹھنے والے سوالات اور علیمہ خان کی تنقید کے بعد اس ملاقات کی وضاحت جاری کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے علیمہ خان کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محسن نقوی سے ملاقات صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور بنوں میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں ہوئی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات میں کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعوے کیے جا رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات کا مقصد صرف بنوں میں دہشتگردی کے واقعات اور صوبائی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو تھا تاہم سیاسی معاملات زیرِ بحث نہیں آئے۔

یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب علیمہ خان نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سہیل آفریدی نے عمران خان کے اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر محسن نقوی سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کا کوئی فرد اس ملاقات سے آگاہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی اس میں شریک ہوا۔

اس سے قبل ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی بیرسٹر گوہر کے گھر پر ملاقات ہوئی جسے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور رابطوں سے جوڑا جا رہا تھا تاہم علیمہ خان نے ایسی کسی ملاقات میں شریک ہونے کی تردید کر دی۔

Related Posts