اسلام کے اہم ترین رکن حج کی ادائیگی کیلئے دنیا بھر سے آنے والے 15 لاکھ سے زائد مسلمان پیر کے روز مکہ مکرمہ میں قائم وسیع خیمہ بستی منیٰ پہنچنا شروع ہوگئے جہاں روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔ سفید احرام میں ملبوس لاکھوں عازمین نے خانہ کعبہ کا طواف مکمل کرنے کے بعد منیٰ کا رخ کیا جبکہ اس سال حج ایسے حالات میں ہو رہا ہے جب خطے میں سیکیورٹی خدشات اور کشیدگی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
عازمینِ حج بسوں اور پیدل سفر کے ذریعے منیٰ پہنچے۔ اس سے قبل انہوں نے مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کیا۔ دنیا بھر سے آنے والے مسلمان روحانی جوش و جذبے کے ساتھ مناسک کی ادائیگی میں مصروف ہیں جن میں ایران سے تعلق رکھنے والے زائرین بھی شامل ہیں۔
رواں برس حج ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب ماضی میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں اہداف پر حملوں کے بعد خطے کی صورتحال حساس سمجھی جا رہی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس سال 2025 کے مقابلے میں بیرونِ ملک سے زیادہ عازمین حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ہیں۔
سعودی حکومت نے حج سیزن کے دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں مکہ مکرمہ کے اطراف جدید فضائی دفاعی نظام نصب دکھائے گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی دفاعی فورسز مقدس مقامات کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے اور ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں تاکہ حجاج کرام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک بار اس کی ادائیگی فرض ہے۔ دورانِ حج مرد سفید بغیر سلے احرام پہنتے ہیں جو مساوات اور اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ خواتین ڈھیلا لباس زیب تن کرتی ہیں جس میں صرف چہرہ اور ہاتھ کھلے ہوتے ہیں۔
حج کے ابتدائی مرحلے میں عازمین خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرتے ہیں جس کے بعد صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر مکمل کیے جاتے ہیں بعد ازاں حجاج منیٰ روانہ ہوتے ہیں جو مسجد الحرام سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔
Hujjaj arrive at Mina
وصول الحجاج إلى مشعر منى لقضاء يوم التروية.#Hajj #Hajj2026 pic.twitter.com/jeffjkjbdx
— Haramain Archive (@muslimmakkah) May 25, 2026
منگل کے روز حجاج میدانِ عرفات پہنچیں گے، جو حج کا سب سے اہم رکن تصور کیا جاتا ہے۔ منیٰ سے تقریباً 10 کلومیٹر فاصلے پر واقع جبلِ عرفات کے بارے میں عقیدہ ہے کہ یہاں نبی کریم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا تھا۔
مراکش سے تعلق رکھنے والے 68 سالہ جریش محمد نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ گزشتہ 40 سے 50 برس سے حج کی خواہش رکھتے تھے اور اس سال ان کا خواب حقیقت میں بدل گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








