ایران میں 88 دن بعد انٹرنیٹ بحال مگر! اگلے ہی لمحے ایسا کیا ہوا کہ سب رک گیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایران میں 88 دن سے جاری طویل ترین انٹرنیٹ بندش کے بعد منگل کے روز بیرونی دنیا سے جزوی رابطہ بحال ہونا شروع ہوا تاہم صدر کے حکم پر مکمل بحالی سے قبل ہی ایک عدالت نے مداخلت کرتے ہوئے اس عمل کو روک دیا جس کے باعث شہریوں کی صورتحال ابہام کا شکار ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر بین الاقوامی انٹرنیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر کچھ علاقوں میں کنیکٹیویٹی بحال بھی ہوئی مگر عدالتی حکم نے اس پیش رفت کو مکمل طور پر آگے بڑھنے سے روک دیا۔

ایران کی انتظامی عدالت نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اس نے سائبر اسپیس سے متعلق خصوصی کمیٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے کیونکہ اس کے خلاف دائر درخواستوں پر اعتراضات زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی متنازع حکومتی فیصلے پر حتمی فیصلے سے قبل عبوری حکم جاری کر سکے۔

دوسری جانب سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سائبر اسپیس کی نگرانی اور نظم و نسق سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں پہلے ہی فیصلہ کیا جا چکا تھا کہ انٹرنیٹ کو جنوری 2026 سے پہلے والی صورتحال کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

Related Posts