پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین متعارف کرانے کے فیصلے کے بعد فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر نے سروسز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، ایشیا انٹرنیٹ کولیش گروپ نے سوشل میڈیا ریگولیش کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔وزیراعظم کے نام مکتوب میں اے آئی سی جی کا کہنا ہے کہ نئے قوانین پرعمل کرنا مشکل ہے ،پاکستان میں گوگل، ٹوئٹراورفیس بک بند ہونے سے 70 ملین صارفین متاثر ہونگےجبکہ حکومتی قوانین سےعام صارفین کے علاوہ کاروباری حضرات بھی متاثر ہونگے۔
حکومتی موقف وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا قوانین کا مقصد شہریوں کا تحفظ ہے،مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلاف کو دبانا نہیں، وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے مجوزہ قانون کو عوام کے مفاد میں قراردیا ہے جبکہ سٹیزن پروٹیکشن رولز 2020 پر مشاورت کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ حکومتی قوانین کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔
گوگل گوگل ایک عوامی ادارہ ہے جس کا مقصد صارفین کو درکار مواد تلاش کرنے کیلئے سرچ انجن مہیا کرنا تھاتاہم ترقی کی منازل طے کرنے کے ساتھ گوگل نے دیگر شعبوں میں بھی قدم رکھا اورآج دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونیوالاسرچ انجن بن چکا ہےاور اپنی مقبولیت کے پیش نظر گوگل نے پیغام رسانی کیلئے گوگل میل یعنی جی میل ، یوٹیوب،سوشل نیٹ ورک کے علاوہ بھی بیسیوں دیگر خدمات بھی متعارف کرادی ہیں۔
موسم کا حال، لفظوں کا مطلب، حساب کتاب، کہاں کیا وقت ہے سمیت تقریباً ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے آج دنیا بھر میں لوگ گوگل کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں،اس کے علاوہ جی میل سروس کی مفت اکاؤنٹ کیلئے میموری کی گنجائش 15 گیگا بائٹ ہو چکی ہےجس کے ذریعے چند سیکنڈز میں کسی بھی قسم کا ڈیٹا دنیا کے کسی بھی کونے میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔گوگل نے انٹرنیٹ کی دنیامیں خودکو منوالیا ہے اور اس کا کوئی مدمقابل دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان میں اس وقت گوگل کروم سب سے زیادہ استعمال کیا جانیوالا سرچ انجن ہے جبکہ جی میل سروس کا استعمال بھی دیگر ای میلز کے مقابلے میں زیادہ ہے، اس کے علاوہ گول فری لانسرز کیلئے نت نئے پروگرامز متعارف کرواتا رہتا ہے جس سے پاکستان کے فری لانسرز گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے بھاری معاوضہ کمارہے ہیں۔
ٹوئٹر ٹوئٹر اظہار رائے کیلئے ایک مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ہے ،اس پر اداروں اور شخصیات سمیت کئی دوسری پسند کی چیزوں پر نظر رکھ سکتے ہیں اور یہ دنیا میں ہونے والے حالات و واقعات پر نظر رکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔ٹوئٹر استعمال کرنیوالوں کوٹویٹرز کہا جاتا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر سے لیکر پسماندہ ممالک کے عام عوام تک دنیا بھر میں رابطے کیلئے ٹوئٹرکا استعمال کررہے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیراعظم بھی ٹوئٹر کا استعمال کرتے اور تقریباًتمام وفاقی وزراء اور سیاسی رہنماء ٹوئٹرکے ذریعے اپنے پیغامات دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
فیس بک فیس بک ایک سماجی ویب سائٹ ہے جہاں آپ ایک صفحے یا پروفائل کی صورت میں موجود ہوتے ہیں جو کہ ایک فرد ،ادارے یاتنظیم کی بھی ہو سکتی ہے۔ فیس بک میں پروافائلز پر فرینڈز اور صفحوں پر فین کی صورت میں لوگ نظر آتے ہیں۔ فیس بک کاپیج عموماً مختلف اداروں کو دیا جاتا ہے اوربہت سی شخصیات بھی اسے استعمال کرتی ہیں جس میں لائیک کا آپشن ہوتا ہے ،پیج کے ذریعے آج کل پیغامات کے علاوہ مختلف اشیاء کی خریدوفروخت بھی عام ہے جبکہ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر ادویات، کپڑے اور دیگر سامان کے پیجز بناکر ہزاروں لوگ روزگار کمارہے ہیں۔
گوگل، ٹوئٹراورفیس بک بند ہونے کے اثرات پاکستان میں سوشل میڈیا کی بدولت معیشت ابھررہی ہے، سوشل میڈیا کے استعمال نے روزہ مرہ معمولات کو انتہائی آسان بنادیا ہے، فیس بک، ٹوئٹراور گوگل کے ذریعے ہزاروں افراد اپنا کاروبار کرنے کے علاوہ اپنے پیغامات عوام تک پہنچارہے ہیں تاہم اگر پاکستان میں گوگل، ٹوئٹراورفیس بک بند ہونے کی صورت میں 70 ملین افراد متاثر ہونگے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔