کراچی:گرین لائن بس منصوبے کے پل میں دراڑ پڑ گئی۔ تعمیراتی ماہرین نے پل کو خطرناک قرار دے دیا، واضح رہے کہ رضویہ چورنگی تا لسبیلہ گرین لائن کی بالائی گزرگاہ تعمیر کی گئی تھی، گلبہار کے مقام پر پل کے بیم میں واضح دراڑ نظر آرہی ہے۔
وفاقی حکومت کے اس بس منصوبے کو 4 سال ہو گئے جو تا حال مکمل نہیں ہوا اور درجن بھر مقامات پر کام جاری ہے۔ منصوبے کے افتتاح سے قبل ہی اسکی تعمیرات میں ٹوٹ پر شہریوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔
ماہر تعمیرات کا کہنا ہے کہ مخدوش پل گرا تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے، اس سے قبل بھی اس منصوبے میں ناظم آباد بورڈ آفس کے مقام پر پل میں گڑھا پڑ گیا تھا۔ گرین لائن کے زیر تعمیر پراجیکٹ میں بار بار نقائص کے باعث اس کی تعمیر مشکوک ہوگئی ہے۔
وفاق نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں یہ منصوبہ شروع کیا تھا، جو شروع سے ہی سست روی کا شکار رہا۔ تاہم پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ایک سال تک اس منصوبے پر کام نہ ہونے کے برابر تھا۔
حکومت کی جماعت ایم کیو ایم نے جب حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جب خالد مقبول صدیقی نے استعفیٰ دیا تو پی ٹی آئی حکومت نے ایم کیو ایم کے مطالبے پر گرین لائن بس منصوبے پر کام تیز کردیا۔ تاہم اس میں نقائص سے اب اس کی تعمیر مشکوک ہوگئی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف تحقیقات کر کے کارروائی کی جائے اور ماہرین تعمیرات کی ایک کمیٹی بنا کر اس منصوبے کی پائیداری کی ضمانت لی جائے تاکہ اس پر اور اس منصو بے میں شامل پلوں کے نیچے سفر کرنے والے شہری بلا خوف سفر کر سکیں۔