پناہ گزینوں کا معاملہ فوری حل ہونا چاہیے

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز عالمی یوم پناہ گزین منایا گیا اس دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی جانب سے بے گھروں انسانوں کے مسئلہ کو ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ اجاگر کیا۔اس رپورٹ کے مطابق 2019 کے آخر تک دنیا میں ہر 97 میں سے ایک فرد یا بے گھر ہو رہا تھا۔ خاص طور پر جنگ زدہ ممالک یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سبب تقریباً 80 ملین افراد تشدد یا ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے جووطن واپس نہیں آسکتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کاکہنا ہے کہ ایک ریکارڈ 78.5 ملین افراد پناہ گزین ، سیاسی پناہ کے متلاشی یا داخلی طور پر بے گھر ہوکر رہ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں تشدد اور تنازعات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بے گھر ہونیوالے افراد کی واپسی کا کوئی سیاسی حل نہیں نکلا ہے۔ بین الاقوامی برادری اب مہاجروں کی قسمت پر پہلے سے کہیں زیادہ منقسم ہے جس کی وجہ سے صورتحال اگلے سال مزید خراب ہوسکتی ہے ۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک تہائی پناہ گزین صرف پانچ ممالک یعنی افغانستان ، میانمار ، جنوبی سوڈان ،وینزویلا اورشام سے آتے ہیں۔ نو سالوں سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام میں 13 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ گذشتہ دہائی کے بعد مہاجرین کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے اور ان کی حالت زار میں فوری بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔

پاکستان ابھی بھی مہاجرین کی تعداد کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے تاہم افغان امن عمل نے مہاجرین کی واپسی کی امیدوں کو بڑھادیا ہے ،پاکستان نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی پر زور دیا ہے لیکن بیشتر مہاجرین پاکستانی معاشرے میں رچ بس چکے ہیں اور اپنے آبائی وطن واپس جانے سے گریزاں ہیں۔

بیشتر مہاجرین ترقی پذیر ممالک میں موجود ہیں اور دولت مند ممالک نے اس بوجھ کو بانٹنے سے انکار کردیا ہے، ترقی یافتہ دنیا مہاجرین کو گلے لگانے کے بجائے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امیگریشن کو روکنے کے لئے پالیسیاں لائے جن میں بیشتر اپنے ہی آئین کے منافی ہیں۔ یورپ نے پناہ گزینوں کو سرحدعبور کرنے سے روک کر ترکی جیسے ممالک کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اقوام متحدہ مہاجرین اور بے گھر لوگوں پر ہونیوالے اثرات کا پتہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کے باعث کورونا وائرس کے دوران صورتحال زیادہ خراب ہوسکتی ہے ۔ اس وقت دنیا کو متحد ہونے اور عالمی پناہ گزینوں کے بحران پر عالمی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts