سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے شاہنوازبھٹو کی 35ویں برسی، پراسرار موت کا ذمہ دار کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے شاہنوازبھٹو کی 35ویں برسی، پراسرار موت کا ذمے دار کون؟
سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے شاہنوازبھٹو کی 35ویں برسی، پراسرار موت کا ذمے دار کون؟

بھٹو خاندان مختلف سیاسی تنازعات، قومی معاملات اور گوناگوں بیانات کے باعث ابتدا ہی سے پاکستان کی قومی سیاست میں ایک اہم اور بااثر خاندان سمجھا جاتا ہے تاہم اِس خاندان میں غیر فطری اموات ہمیشہ سے قابلِ تشویش رہیں۔

ملک کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو شہید کہلائے کیونکہ اوّل الذکر کی جان پھانسی جبکہ آخر الذکر کی دہشت گردی کے باعث گئی تاہم ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے شاہنواز بھٹو کو بھی طبعی موت نصیب نہ ہوسکی۔

آج سے ٹھیک 35 سال قبل سن 1985ء میں آج ہی کے روز یعنی 18 جولائی کو شاہنواز بھٹو مردہ پائے گئے جنہیں کسی دشمن یا سیاسی حریف نے زہر دے دیا تھا لیکن ایسا کس نے کیا؟ یہ معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔

آئیے شاہنواز بھٹو کی 35ویں برسی کے موقعے پر شہید بھٹو کے وارث کی پراسرار موت سے قبل حالاتِ زندگی کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھٹو خاندان میں غیر فطری موت ایک حقیقی مسئلہ کیوں ہے؟

شاہنواز بھٹوکے حالاتِ زندگی 

پاکستان کے سابق صدر اور وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اہلیہ نصرت بھٹو  کے ہاں شاہنواز بھٹو کی پیدائش 21 نومبر 1958ء کو ہوئی جبکہ خاتونِ اوّل نصرت بھٹو قومیت کے اعتبار سے ایرانی کردش نژاد کہلاتی ہیں۔

ملک کی سب سے اہم سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 4 اولادیں تھیں جن میں سے شاہنواز بھٹو سب سے آخر میں پیدا ہوئے یعنی وہ چاروں بچوں میں سے سب سے چھوٹے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بیٹے شاہنواز کو پاکستان کے ایچی سن کالج لاہور اور راولپنڈی امریکن اسکول سے تعلیم دلوائی جو بعد ازاں سن 1979ء میں عالمی اسکول، اسلام آباد (آئی ایس او آئی) کہلایا۔

شاہنواز بھٹو نے 1976ء میں گریجویشن مکمل کی جس کے بعد انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے بیرونِ ملک بھیج دیا گیا۔ ابھی شاہنواز بھٹو زیرِ تعلیم ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔

سابق وزیرِ اعظم کو پھانسی پر شاہنواز بھٹو کا ردِ عمل

سابق آرمی چیف ضیاء الحق نے سن 1979ء میں ہی وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی جبکہ اس سے قبل شاہنواز بھٹو اور ان کے بڑے بھائی مرتضیٰ بھٹو اس کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔

مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے عالمی سطح پر اپنے والد کی زندگی بچانے کیلئے مہم چلائی تاہم یہ مہم بے سود ثابت ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی نہ بچائی جاسکی۔

جب پھانسی کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کی جان لے لی گئی تو شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو لندن کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھے جو خبر ملتے ہی باہر آئے اور پاکستان میں قائم عسکری حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

دونوں بھائیوں نے عالمی میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ ضیاء الحق نے 2 سال تک ہمارے باپ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی شناخت کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کی اور بالآخر ان کی جان لے لی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی چیز پر شرمندہ نہیں ہیں۔ آج پیپلز پارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم کی صورت میں ہم نے ایک شہید کو دفن کردیا۔

باپ کے قتل کا انتقام، الذوالفقار کا قیام 

والد کو پھانسی دئیے جانے کے بعد مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے الذوالفقار نامی ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالنے کے بعد مسلح جدوجہد شروع کی  جس کے دوران متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

حکومتِ پاکستان نے شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو دہشت گرد قرار دے دیا کیونکہ دونوں بھائیوں کی مسلح جدوجہد سے قبل پاکستان میں ہتھیار بند جدوجہد کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ملکی تاریخ میں الذوالفقار پہلی دہشت گرد تنظیم بھی کہلائی۔ 

شاہنواز بھٹو کا قتل

بعد ازاں شاہنواز بھٹو فرانس کے شہر نائس میں پراسرار انداز میں مردہ پائے گئے جس پر بھٹو خاندان کا یقین تھا کہ انہیں کسی نے زہر دے دیا ہے تاہم شاہنواز بھٹو کے قتل کیلئے کسی پر مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

یہ 18 جولائی سن 1985ء کا واقعہ ہے یعنی شاہنواز بھٹو کے قتل کو آج 35 سال گزر چکے ہیں جس کے بعد سے آج تک پیپلز پارٹی کسی نہ کسی صورت میں مسلسل اقتدار کا حصہ رہی ہے، پھر بھی قاتلوں کا پتہ نہ چلایا جاسکا۔ 

قاتل کون؟ 

شاہنواز بھٹو کا قتل چونکہ فرانس میں ہوا تھا، اس لیے پاکستان کے ساتھ ساتھ فرانس میں بھی قتل کی تحقیق و تفتیش ہوئی۔ فرانسیسی حکام کے مطابق شاہنواز کی اہلیہ ریحانہ قتل کی ذمہ دار تھیں، تاہم یہ بات سچ ثابت نہ ہوسکی۔

الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود مرتضیٰ بھٹو کو بھائی کی ہلاکت کا بے حد رنج تھا۔ شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو نے دو سگی بہنوں سے شادی کی تھی تاہم شاہنواز کی وفات کے بعد بڑے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ 

بعد ازاں مختلف سوال و جواب اور پوچھ گچھ کے بعد ریحانہ کو سفر کی اجازت دے دی گئی جو امریکا چلی گئی تھیں۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا کا شاہنواز بھٹو کے قتل پر ردِ عمل بالکل مختلف تھا۔

جنرل ضیاء الحق کے زیرِ اثر پاکستانی میڈیا یہ راگ الاپتا رہا کہ شاہنواز بھٹو کی وفات منشیات اور شراب کے استعمال کے باعث ہوئی، تاہم یہ حقیقت نہیں ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک الذوالفقار اُن دنوں ضیاء الحق حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے تھی، اِس لیے عین ممکن ہے کہ شاہنواز کے قتل کے پیچھے سرکاری ہاتھ بھی ملوث رہا ہو، تاہم یہ بات بھی کسی سطح پر کبھی ثابت نہ ہوسکی۔

وفات کے بعد شاہنواز بھٹو کی نمازِ جنازہ میں کم و بیش 25 ہزار لوگ شریک ہوئے۔ آج کل شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو اپنی والدہ کے ہمراہ امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔ 

Related Posts