پاکستان میں صدارتی نظام کی گونج

تازہ ترین

تازہ ترین

 پاکستان تحریک انصاف 2018ء میں جب اقتدار میں آئی تو اس کیلئے پہلے دن سے ہی مسائل نے جنم لے لیا یہ مسائل اسے پچھلی سیاسی جماعتوں کی طرف سے وراثت میں ملے تھے، سسٹم بالکل بیٹھ چکا تھا ادارے تقریباً تباہ ہوچکے تھے، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔

قومی خزانہ خالی تھا، بیرونی قرضوں پہ سود اتنا تھا کہ اسے ادا کرنے کیلئے ہمیں بھاری شرائط پر قرضہ لینا پڑتا تھا، پچھلی حکومتوں نے ملک کو اس نہج پہ لا کھڑا کیا کہ قومی ادارے گروی رکھنے پڑگئے تھے اور نوبت اب یہاں تک آپہنچی تھی کہ ہمیں اپنے ایٹمی اثاثوں کی فکر پڑگئی تھی کہ کب ہم سے ایٹمی اثاثوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔

تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، مولانا فضل الرحمٰن سمیت متحد اور مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا تھا اور مافیا بھی پوری طرح پنجے گاڑے بیٹھا تھا، سب سے پہلے تحریک انصاف نے بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی اور ملکی خزانے کو بھرنے کے حوالے سے کام شروع کیا اس سلسلے میں ٹیکس وصولی کی شرح کو بڑھایا گیاچونکہ ادارے تقریباً تباہ ہوچکے تھے لہٰذا اس حوالے سے کابینہ نے سر جوڑے اور وزیراعظم پاکستان نے اداروں کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا اور آہستہ آہستہ اداروں کو بہتر کیا جانے لگا۔

پاکستان وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کی انتھک محنت کے باعث دن بدن ترقی کرنے لگا، قومی خزانہ جو خالی ہوچکا تھا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا وہی ملک آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے لگالیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کے بعض وزراء اور ممبرز پچھلے حکمرانوں کی روش پہ چل نکلے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے ۔

چونکہ 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو واضح اکثریت نہیں مل سکی لہٰذا ان کو اتحادیوں کا سہارا لینا پڑا ،اتحادیوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کو ناکوں چنے چبوا دیے، خاص کر پنجاب اور وفاق میں اتحادیوں نے تحریک انصاف کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ۔

سب سے پہلے آٹا بحران اسکے بعد شوگر اور اب بجلی کا بحران، تحریک انصاف اس دو سالہ اقتدار میں بحرانوں میں ہی گھری رہی اور اسکے رستے میں طرح طرح سے روڑے اٹکائے گئے ،عوام میں بےچینی اور مایوسی پھیلائی جارہی ہے اور یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف ڈیلیور نہیں کر پارہے اوردوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے اداروں پر تنقید کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔

اس وقت ملک میں تمام سیاسی جماعتیں چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہیں ،کسی کو بھی عوام کی پرواہ نہیں ہے ،آصف علی زرداری اور نوازشریف کو صدر اور وزیراعظم بنانے والی اس عوام کو اگر قائداعظم کا پاکستان چاہیے تو پھر عمران خان کو بطور صدر لانا ہوگا ،مافیا اس ملک کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے، اس مافیا کو ختم کرنے کیلئے جزا و سزا کا عمل شروع کرنا ہوگا اور یہ تب تک نہیں ھوسکتا جب تک صدارتی نظام نہ آجائے۔

تحریک انصاف سے عوام کوتوقع تھی کہ وہ کرپشن ختم کرے گی لیکن کرپشن ختم کرنے کی بجائے مزید بڑھ گئی ہے بلکہ سرعام ہوگئی ہے تبھی وزیراعظم پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی کابینہ پہ زور دیا ہے کہ وہ اس کرپٹ مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔

عمران خان کودوبارہ موقع ملے یا نہ ملے لہٰذا وقت آپ کا ہے ،خدارا اس قوم اور ملک کا بھلا کرتے جایئے ،یہ قوم آزادی سے لیکر اب تک آزادی کی جدوجہد کررہی ہے، پلیز اس فرسودہ اور راشی نظام کو دفن کردیجئے ،چاہے آپ کو اس کیلئے جتنے مرضی سخت فیصلے لینے پڑیں ،آپ نے قوم کو ریاست مدینہ کا خواب دکھایا تھااس ملک کو وہی ملک بنانا ہے جس کا آپ نے خواب دیکھا ہے اگر آپ نے اس ملک کو صحیح ڈگر پر ڈال دیا تو تاریخ آپ کو پاکستان کے محسنوں کے طور پہ یاد رکھے گی۔

Related Posts