سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر ’قابل اعتراض مواد‘ کا نوٹس لیتے ہوئے یوٹیوب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیدیا ہے، عدلیہ کے خلاف غیر مناسب تنقید اعلیٰ عدلیہ کو ناگوار گزری،عدلیہ کو چاہئے کہ جو شخص اس طرح کا موادتیار کررہا ہے اس کے خلاف پابندی کرے نہ کہ پورے پلیٹ فارم پر پابندی عائد کردی جائے۔
آئین ہمیں آزادی اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے لیکن پھر بھی اس کے باوجود اعلیٰ عدلیہ اور فوج پر تنقید کی سختی سے ممانعت ہے۔ نیا میڈیا ریاستی کنٹرول والی پابندیوں سے دور رہ کرہرکسی کو بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس سارے معاملے سے حکام پریشان ہوگئے ہیں کیونکہ وہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے اور ان کو چلانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ سنسرشپ کی ایک تاریخ ہے جس نے ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ 2010 میں فیس بک پربھی ایک حساس معاملے کے باعث پابندی عائد کردی گئی تھی، اس کے بعد لوگوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، اس کے علاوہ یوٹیوب پر 2012 میں ایک اسلام مخالف فلم پر پابندی عائد کردی گئی تھی، جو تین سال تک جاری رہی۔
پاکستان میں تقریباً ایک ملین ویب سائٹس بلاک ہیں،جن میں زیادہ ترفحش مواد اور اشتعال انگیز ہیں، لیکن اس طرح کی پالیسیوں کو حکومت کی ناراضگی اور تنقید کو دبانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پچھلے ہفتوں کے دوران پی ٹی اے نے آن لائن گیم پب جی پر پابندی عائد کردی تھی اور اب ٹک ٹوک کو بھی انتباہ جاری کردیا گیا۔
نیوز رومز اور ایڈیٹوریل پالیسیوں میں سیلف سنسرشپ کے باعث بہت سارے صحافی سوشل میڈیا پر چلے گئے،جو صحافت کے لئے ایک نیا محاذ ہے۔ یوٹیوب کے پاس نفرت انگیز تقریروں اور اشتعال انگیز مواد کو فروغ دینے کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن ان قوانین میں حکومت یا ریاستی اداروں پر تنقید شامل نہیں ہے۔ پاکستان اس طرح کی پالیسیوں کے باعث تیزی سے آمرانہ ریاست بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا بہت سارے لوگوں کے لئے ذریعہ معاش بن گیا ہے۔ اس میں ایسے نوجوان بشمول تخلیق کار شامل ہیں جنہوں اس کے باعث اپنی پہچان بنائی ہے، ٹریول وِلگرز، کھانا پکانے والے شو چلانے والی خواتین، گھر سے کمانے کے لئے میک اپ ٹیوٹوریل اور وہ طالب علم جو آن لائن علم حاصل کر رہے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں ان پلیٹ فارمز پر اشتہار ات کی مد میں بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتی ہیں اور سوشل میڈیا پر پابندی سے ان کا معاش کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔
ہمیں خود پر پابندی عائد کرنے کی ثقافت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بجائے ہمیں اس کی مسئلے کی بنیادی وجہ کو تلاش کرنا ہوگا، قابل اعتراض ویڈیو کے لئے پورے یوٹیوب پر پابندی لگانا ایسا ہے کہ ایک متنازعہ کتاب کی وجہ سے آپ پوری لائبریری کو آگ لگا دیں، یہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے، اس کے لئے ہمیں پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔