کراچی کو توجہ کی ضرورت ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

شہر بے اماںکراچی دیگر لاتعداد مسائل کے بعد ان دنوں بارشوں کے بعد نکاسی آب کے حوالے سے ایک معمہ بنا ہوا ہے، کراچی کی کچی آبادیوں سے لیکر پوش علاقو ں تک ہر جگہ ابر رحمت شہریوں کیلئے زحمت بن چکی ہے، بارش کے چھٹے اسپیل نے کراچی میں شدید تباہی مچائی اور 80 کے قریب قیمتی انسانی جانوں کے علاوہ اربوں روپے کا نقصان ہوا ۔

کراچی میں  بارش رکنے کے بعد بھی شہر کی سڑکوں پر پانی جمع ہے اور پوش علاقے بھی ندی نالوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔سندھ حکومت کے وزیرسعید غنی کا کہنا ہے کہ پوش علاقوں میں صفائی نکاسی آب ہماری ذمہ داری نہیں ہے جبکہ شہر کے نشیبی اور پسماندہ علاقوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

کراچی میں صفائی ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو کئی سالوں سے حل ہوکر نہیں دے رہا، سندھ میں 12 سال سے بلا شرکت غیر حکومت کرنیوالی پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں کراچی کے مسائل مزید بڑھ چکے ہیں جبکہ کراچی کے عوام کے درد کی دہائیاں  دینے والے میئر کراچی وسیم اختر اپنے ناکام ترین دور کے بعد سبکدوش ہوچکے ہیں، اپنے پورے چار سالہ دور میں وسیم اختر نے شہر کیلئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا لیکن مراعات پوری لیتے رہے جبکہ شنید یہ ہے کہ انہوں نے کراچی کے وسائل شہر کی بہتری پر لگانے کی بجائے اپنی تجوریاں بھریں اور اب احتساب سے بچنے کیلئے ملک سے فرار کیلئے پر تول رہے ہیں اور اپنے اہل خانہ کو پہلے ہی بیرون ملک روانہ کرچکے ہیں۔

عروس البلاد کراچی کی تباہی کا نوحہ ایک دینا کا قصہ نہیں ہے بلکہ کراچی کو آہستہ آہستہ تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر تباہ کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ عام انتخابات میں کراچی کے باسیوں نے آزمودہ سیاسی جماعتوں کے بجائے پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا اور پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اہم بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی کراچی سے کامیاب ہوئے تاہم انہوں نے بعد میں یہ نشست چھوڑ دی تھی ۔

کراچی کی صورتحال روز بروز بگڑتی جارہی ہے، کوئی سیاسی جماعت کراچی کے مسائل حل کرنے کو تیار نہیں ہے، ہر طرف الزام تراشی اور ذمہ داری سے فرار کی راہ نکال لی جاتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے شہر قائد کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اگر وزیراعظم پاکستان عمران خان معاشی حب کو بچانے کیلئے چند روز کراچی میں رہ کر مسائل کا احاطہ کریں اور انتظامیہ کو پابند کریں کہ فوری طور پر کراچی کے مسائل حل کئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی کے یہ دیرینہ مسائل حل نہ ہوسکیں کیونکہ کراچی کی موجودہ صورتحال کسی خاص چیز کی نہیں  بلکہ صرف توجہ کی متقاضی ہے ۔

Related Posts