پاکستان کی امن کی خواہش کا بھارت کو بھی احترام کرنا چاہیے

تازہ ترین

تازہ ترین

نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد بھارت اورپاکستان کے مابین تعلقات میں سرد مہری بڑھ چکی ہے، گذشتہ سال کشمیر کی خود مختار حیثیت کو یکطرفہ فیصلے سے تبدیل کرکے بھارت نے تعلقات کو بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے اوراس وقت پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اشارہ کیا ہے کہ بھارت نے بات چیت کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے اور پاکستان بھی بات چیت کے لئے بیٹھنے پر راضی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ سال ایک حادثے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا تاہم اب دونوں ممالک نے اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے جیسا کہ معید یوسف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے حکمت عملی کے ساتھ سوچنے اور میز پربیٹھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لئے پہلے سے شرائط طے کی ہیں اور پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیر ایجنڈے کا حصہ بننا چاہئے۔ کشمیری جنھیں بھارتی فورسز کے ذریعہ شدید مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہ تنازعہ کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی ممکنہ حل کا حصہ بننا چاہئے۔ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں اور مزاحمتی خطے میں ایک سال سے جاری فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے۔

معید یوسف مفاہمتی لہجے کے بجائے جارحانہ موڈ میں نظر آئے اورانہوں نے بھارت کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے اورجاسوس ایجنسی را پر الزام لگایا کہ وہ اے پی ایس پشاور حملے میں ملوث ہے،بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے وسیع پیمانے پر حملوں کا ذمہ دار رہا ہے اور اس نے پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کے لئے طالبان کے دھڑوں کو ایک ہی گروپ میں ضم کرنے کی حمایت کی ہے۔

مودی سرکار پاکستان مخالف بیانیہ اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ دونوں ممالک پچھلے سال جنگ کے قریب پہنچے تھے جب ہندوستانی نے فضائی حملے شروع کرنے کے لئے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی تاہم پاف فوج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بنادیا تھا۔

پاکستان کے پاس کل بھوشن یادیو زیر حراست ہے جس نے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا اعتراف کیا۔ بھارت کو چین کے ساتھ مخاصمت کاسامنا ہے اور وہ دو محاذوں پر تنازعہ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ سوال غور طلب ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت پر راضی ہوگا۔

Related Posts