یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ آرٹ کے فن پارے دُنیا بھر میں چرائے جاتے ہیں اور پسماندہ ذہنیت کے حامل امیر لوگ جو فن کے نام نہاد دلدادہ ہیں، وہ زبردست قیمت دے کر انہیں خریدتے ہیں۔
ابتداً یہ کچھ گنے چنے افراد کا عمل تھا جو رفتہ رفتہ ٹیم ورک بنتا چلا گیا اور کچھ ماہر چور گیلریوں، عجائب گھروں اور فن سے محبت کرنے والوں کے ذاتی کلیکشن سے آرٹ کے نادر و نایاب نمونے اور فن پارے چوری کرتے ہیں۔ اسی نیٹ ورک کے دیگر افراد اسے آرٹ میں دلچسپی رکھنے والوں کو منہ مانگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں آرٹ نیلامی کے کچھ مقامات بھی چوری شدہ فن پاروں کی فروخت کا کام کرنے کیلئے بدنام ہوئے ہیں، حالانکہ یہ ان کے کام کا کوئی سب سے بڑا دائرہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بنیادی طور پر ایسے مقامات افراد کا ذاتی کام جمع کرتے ہیں یا اداروں اور تنظیموں کے زیرِ ملکیت کچھ قیمتی فن پارے فروخت کرتے ہیں۔
پاکستان بدقسمتی سے ایک ایسا ملک ہے جہاں اداروں کے اندر پائے جانے والے چوروں کی بہتات ہے۔ متعدد بار آپ نے میوزیم کے اصل نوادرات کو نقل سے بدلنے کے متعلق سنا ہوگا جو نام نہاد ماہرینِ فن کی بنائی گئی نقول ہوتی ہیں۔ میوزیم میں تاریخی نمونے کی جگہ صرف انوینٹری برقرار رکھنے کیلئے نقلی آرٹ رکھ دیا جاتا ہے، بصورتِ دیگر عجائب گھروں کے شیلفز میں کچھ دکھائی نہ دیتا۔
یہاں قومی آرٹ گیلری کا معاملہ بھی قابلِ ذکر ہے جو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) کے زیرِ انتظام ہےجس کی انتظام کاری پیشہ ورانہ مہارت سے کبھی نہ کی جاسکی۔ یہاں تک کہ مستقل کلیکشن کی اشاعت سے قبل کوئی یہ جانتا بھی نہیں تھا کہ این اے جی کی ملکیت میں آرٹ کے کتنے نادرونایاب نمونے یا پینٹنگز موجود ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی شخص یہ بات بھی نہیں جانتا تھا کہ این اے جی سے پینٹنگز چوری کی جاتی ہیں جب تک کہ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی ایک خاتون رکن نے اسمبلی میں نہیں اٹھا دیا کہ امرتا شیر گل کی پینٹنگز کو قومی آرٹ گیلری سے چوری کر لیا گیا ہے جو امریکا میں کسی کو بیچ دی گئی ہیں۔
آج 10 سال سے زائد عرصہ بیت چکا کہ آرٹ چرانے والے مجرموں کے سراغ تلاش کرنے کیلئے انکوائری پر انکوائری ہوتی چلی گئی تاہم تحقیقات کامیابی کی منزل سے کوسوں دور نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی کسی کو مجرم نامزد کرنے میں ناکام نظر آیا۔ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا آرٹ چور کو پکڑنا کوئی راکٹ سائنس ہے کہ ایف آئی اے جیسا قومی ادارہ اس میں ناکام ہو؟ کوئی بھی سمجھدار شخص اس سوال کے جواب میں یہ کہہ سکتا ہے کہ عام چور کسی پینٹنگ یا فن پارے کی اصل قیمت سے ناواقف ہوتا ہے اور قیمت صرف وہی جان سکتا ہے جو خود ماہرِ فن ہو یا فن کا حقیقی قدر دان ہو۔
کہا جاتا ہے کہ نیشنل آرٹ گیلری کے مستقل ذخیرے سے اب تک جو پینٹنگز چرائی گئی ان کی تعداد کم و بیش 200 کے لگ بھگ ہے۔ یہاں لاپتہ پینٹنگز میں مزید 10 نادرونایاب فن پارے بھی شامل کریں جو موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے فوزیہ سعید نے رواں برس 17 اگست کو مرحوم انور جلال شمزہ کے “قانونی وارث کو واپس” کیے۔ میاں اعجاز الحسن کے خط میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ پاکستانی آرٹسٹ اور شمزہ پینٹنگز پر پی این سی اے کمیٹی کے چیئر پرسن منصور راحی نے 19 اگست 2020ء کو منظوری دی۔
پی این سی اے کی ڈائریکٹر جنرل کا سرکاری مؤقف یہ کہتا ہے کہ یہ معاملہ پی این سی اے کی سابقہ انتظامیہ کی سراسر غفلت کے باعث 35 سال سے زیرِ التواء ہے۔ ایسا پی این سی اے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے متفقہ فیصلے کے بعد ہوا۔ خاتون ڈی جی پی این سی اے کے پاس متعدد خطوط اور ایک رسید ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ 10 شمزہ پینٹنگز قرض کے طور پر لی گئیں اور 35 برس سے بار بار درخواستوں کے باوجود مرحوم اے جے شمزہ کی اہلیہ میری شیمزہ کو قرض واپس نہ کیا جاسکا۔
این سی اے (نیشنل کالج آف آرٹس) کے سابق پروفیسر اور ناپ (نیشنل آرٹسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان) کے چیئرمین میاں اعجاز الحسن نے حکومت کے اعلیٰ حکام اور چیف جسٹس آف پاکستان کو رواں برس 17 اکتوبرکو اپنے خط میں ان تمام ثبوتوں کی تردید کی جو فوزیہ سعید نے پی این سی اے کے بورڈ آف گورنرز کو مہیا کیے تھے تاکہ وہ اپنی مرضی کا فیصلہ کرسکیں۔
میاں اعجاز الحسن کے ساتھ ساتھ معروف آرٹسٹ اور پی این سی اے کے سابق ڈی جی نعیم طاہر نے 1985ء میں لاہور میں شیمزہ کی مصوری کی نمائش کا چشم دید گواہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے جہاں مریم شیمزہ نے نیشنل آرٹ گیلری کو 10 پینٹنگز تحفے میں دیں، تب سے وہ مستقل کلیکشن کی انونٹری کا حصہ بنے رہے۔
ڈاکٹر خالد سعید بٹ، راجا چنگیز سلطان، نعیم طاہر اور توقیر ناصر سمیت تمام پی این سی اے ڈائریکٹر جنرلز نے فوزیہ سعید کے اس مؤقف کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے میری شیمزہ کی متعدد درخواستوں اور پی این سی اے اور دفترِ خارجہ کو لکھے گئے خطوط کا ذکر کیا جن میں قرض لی گئی پینٹنگز ان کے شوہر اے جے شیمزہ کو واپس کرنے کی بات کی تھی۔ تاہم، جمال شاہ نے تسلیم کیا کہ مرحومہ قانون دان عاصم جہانگیر نے انہیں 2017ء میں، جب وہ پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل تھے، ایک کلائنٹ کی طرف سے انہیں ایک خط لکھا تھا۔
جمال شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے ہر دفتر کی فائل اور آرٹ کے نوادرات کی انوینٹریز کے رجسٹر تلاش کیے لیکن کوئی بھی قرض لی گئی چیز دستیاب نہ ہوسکی تاہم یہ پینٹنگز مستقل مجموعے میں شمار کی گئیں اور ان کی تصاویر بھی متعلقہ کیٹلاگ میں شائع کی گئیں۔ چنانچہ پی این سی اے نے عاصمہ جہانگیر کو حقائق سے آگاہ کیا اور ثبوت مانگے کہ کون سی پینٹنگز قرض لی گئی تھیں؟ اس کے بعد ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ تاہم موجودہ وفاقی وزیرِ تعلیم و قومی ثقافتی ورثہ شفقت محمود نے مجھ سے کہا کہ لاہور میں ایک خاتون کو شیمزہ کی پینٹنگز دے دوں۔ جمال شاہ کا کہنا ہے کہ شفقت محمود سخت ناراض ہوئے جب میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔
محسوس ایسا ہوتا ہے کہ شفقت محمود نے فوزیہ سعید کو جان بوجھ کر وہی ٹاسک پورا کرنے کیلئے مقرر کیا تھا جو پی این سی اے کے سابقہ سربراہ نے پورا نہ کیا جس کیلئے شواہد بڑی جلد بازی میں مکمل کیے گئے جنہیں میاں اعجاز الحسن نے اپنے خط میں چیلنج کردیا جو انہوں نے حکومت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کو لکھا تھا۔
اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے شیمزہ کی پینٹنگز کے معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور اس کی مکمل تحقیقات نہ ہوئیں تو اس سے قومی آرٹ گیلریوں اور عجائب گھروں میں چوری کا ایک نیا طریقہ متعارف ہوجائے گا جس سے بڑے پیمانے پر نادرونایاب تاریخی فن پارے چوری ہونے کا خدشہ ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے 200 کھوئی ہوئی پینٹنگز کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ دونوں کیسز میں مجرموں کو ایسی سزا دی جانی چاہئے جو تاریخی نوادرات اور پینٹنگز چرانے والوں کیلئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ فوزیہ سعید کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک کیس گزشتہ تقریباً 3 ماہ سے زیرِالتواء ہے جس میں ان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور اب تک عدالت نے کیس کی پہلی سماعت کیلئے تاریخ تک مقرر نہیں کی۔ شاید ہماری عدالتوں نے کبھی یہ کہاوت نہیں سنی ہوگی کہ تاخیر سے انصاف ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے، یا پھر یوں کہیے کہ بااثر اور متمول طبقے کے خلاف انصاف میں جان بوجھ کر تاخیر کی جاتی ہے۔