بلوچستان کیلئے اقدامات ناگزیر

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز بلوچستان کا دورہ کیا اور سانحہ مچھ میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین سے ملاقات کی، وزیراعظم نے بلوچستان میں مجموعی امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت بھی کی اور صوبے میں موجود دشمن قوتوں کیخلاف آپریشن کے علاوہ ہزارہ سمیت دیگر اقوام کے تحفظ کیلئے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان اپنے وعدہ کے مطابق ہزارہ شہداء کی تدفین کے فوری بعد کوئٹہ روانہ ہوئے اور اس سے قبل حکومت اور متاثرین کے لواحقین کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے ، حکومت نے متاثرین کے جائز مطالبات منظور کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اتوار 3 جنوری کو مچھ میں 11 کان کنوں کے اندوہناک قتل کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ہزارہ برادری مسلسل 18 سال سے دہشت گردی کا عذاب جھیل رہی ہے اور قریباً دو دہائیوں سے جاری کشت و خون کے اس کھیل میں دہشت گرد 80 سے زائد واقعات میں 16 سو سے زائد ہزارہ افراد کی جان لے چکے ہیں۔

بلوچستان میں علیحدگی کے پسند تنظیموں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے علاوہ افغان ایجنسی این ڈی ایس بھی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں اور اب دولت اسلامیہ بھی بلوچستان میں کشیدگی بڑھانے کیلئے بے گناہوں کا خون بہارہی ہے۔بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کے واضح ثبوت سامنے آچکے ہیں اور مچھ سانحہ میں بھی بھارتی دہشت گردوں کا ہاتھ کارفرما ہے جس کا حکومت نے برملا اظہا ر کیا ہے۔

ہزارہ برادری کے بیگناہ افراد کی بہیمانہ ہلاکت کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دیئے گئے اور اس دوران کراچی میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا اور شہر قائد میں کشیدگی کے واقعات بھی رونما ہوئے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نیکٹا نے کراچی میں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا لیکن خوش بختی کہ کوئی سانحہ رونما نہیں ہوا تاہم یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس سازش کو ناکام بنانے کے پیچھے محافظوں کی کاوشوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کا مستقبل سی پیک سے وابستہ ہے اور سی پیک کا مستقبل بلوچستان سے مشروط ہے یہ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتوں نے بلوچستان کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے، وزیراعظم پاکستان کے دورہ بلوچستان کے حوالے سے بھی سیکورٹی خدشات سامنےآئے اور مختلف ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بلوچستان میں عمران خان پر حملہ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم سیکورٹی اداروں نے ناصرف دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنایا بلکہ ملک میں امن وامان کی فضاء خراب کرنے کی سازشیں بھی ناکام بنادی گئی ہیں۔

وزیراعظم نے دیر سے سہی لیکن کوئٹہ کا دورہ کرکے ایک اچھا اقدام اٹھایا، عمران خان اس سے پہلے بھی ہزارہ متاثرین سے ملکر ان کی دلجوئی کرچکے ہیں لیکن پہلے بطورسیاسی رہنماء اور اب وزیراعظم کے طور پر متاثرین سے ملے ہیں۔

ماضی میں عمران خان حکومت سے ہزارہ متاثرین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اب وقت آچکا ہے کہ وزیراعظم صرف تسلیاں نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھائیں اور صرف ہزارہ برادری نہیں بلکہ پورے صوبے میں امن و امان قائم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

Related Posts