کیا ہم آزاد قوم ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

میں اکثر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں: کیا ہم آزاد قوم ہیں؟ میرا جواب، عام طور پر(نہیں)سامنے آتا ہے، ہم دنیا کے نقشے پر 74 سال سے آزاد قوم ہوسکتے ہیں، لیکن پھر بھی، ہم واقعی آزاد نہیں ہیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعدپہلے نو سالوں تک کسی آئین کو نافذ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔

شاعروں اور موسیقاروں کو ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھانا پڑی اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا، کشمیری نوجوانوں کو آزادی کے لئے آج بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دوسری جانب بلوچ اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے باعث نالاں ہیں۔

دیکھا جائے تو آزادی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی کے اوپر یا نیچے نہیں ہے۔ کوئی اعلیٰ اور کمتر نہیں ہے۔ کوئی بھی دوسرے سے پاک یا نجس نہیں ہے۔سب کے حقوق یکساں ہونے چاہئیں۔

اگر ہم ارد گرد دیکھیں تو ابھی ہم آزادی سے بہت دور ہیں، پاکستان نے اپنے قیام کے 74 میں سے 30 سال سے زیادہ عرصہ تک فوجی حکومت میں گزارے، اور اس کے باوجود ہم خود کو ایک جمہوری قوم کہتے ہیں۔ ہم اُن بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کو دہشت گردی کا سامنا رہا ہے اور ملک میں سلامتی کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔

ریاستی ادارے پاور میں ہیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی امور میں کا اہم کردار رہے ہیں، اسی لئے جرنیلوں نے سیاستدانوں کو اپنی حکمت عملی دینے کے لئے ان پر دباؤ ڈالا، لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔

ہماری 40 فیصد سے زیادہ آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے، اور اس سے بھی بڑی تعداد صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ان حالات میں، کیا ہم ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں؟ ہم ابھی تک بحیثیت قوم آزاد نہیں ہوسکے ہیں۔

ہم اپنی سمت متعین کئے بغیر نامعلوم مقصد کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر افراد بغیر کسی مقصد کے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کل کیا ہوگا، مجھے یقین ہے کہ ہم صرف وقت ضائع کررہے ہیں

Related Posts